خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 177

خطبات ناصر جلد پنجم 122 خطبہ جمعہ ۱۸ رمئی ۱۹۷۳ء محسنِ اعظم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو دی گئی ہیں۔آپ کی تیسری صفت نذیر بیان ہوئی تھی اس کے مقابلہ میں انسان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وه وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الفتح : ١٠) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔تسبیح کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی کمزوری اور نقص سے منزہ سمجھنا گویا اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے دوسرے معنے امام راغب نے مفردات میں یہ بیان کئے ہیں الْمَزُ السَّرِيعُ فِي عِبَادَةِ اللهِ تَعَالَى۔۔۔عَامَّا فِي الْعِبَادَاتِ قَوْلًا كَانَ أَوْ فِعْلًا أَوْ نيّةٌ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں سرعت پیدا کرنا۔۔۔۔گو یا تسبیح کا لفظ قولی و فعلی اور نیت کی عبادات کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور ان عبادات میں سرعت پیدا کرنا تسبیح ہے۔غرض نذیر کے مقابلہ میں وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الفتح:۱۰) میں بتایا کہ چونکہ بعض قسم کے افعال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اس لئے تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ جب انذار کے حالات پیدا ہوں ، لوگوں کو بد اعمالیوں سے ڈرایا جائے تو یہ امر تمہارے لئے نیکیوں کے بجالانے میں سرعت اور تیزی پیدا کر دے۔پس یہ تین ذمہ داریاں ہیں جنہیں میں نے مختصراً اور کچھ تھوڑے سے موازنہ کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔شاہد کی صفت کے مقابلہ میں ایمان باللہ وایمان برسول کہا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے تعلیمی لحاظ سے صفات باری کا جو بیان قرآنِ عظیم میں ہے وہ انسان کی تاریخ میں ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتا۔اس لحاظ سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم معرفتِ صفات و شئونِ باری کے لئے قرآنِ کریم پر غور کریں اور صفاتِ باری کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ صفات باری کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بداعمالیاں سرزد ہوتی ہیں جو توحید سے دور لے جانے والی اور شرک کے قریب کرنے والی ہیں۔گویا پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے جس رنگ میں صفات باری کو بیان کیا ہے اس رنگ میں ان کا عرفان حاصل کرنا چاہیے۔چنانچہ آج مہدی معہود علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ صفات باری کا جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں بیان