خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 167

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۷ خطبہ جمعہ ۱۱رمئی ۱۹۷۳ء خیال نہیں پیدا ہوتا کہ یہ رقمیں پوری ہونی چاہئیں۔پھر جب ربوہ بنا تو حضرت صاحب نے قرضہ لے کر خرچ کیا اس کی واپسی کے لئے یہی ایک مد ہے جو واپسی قرضہ جات کے نام سے قائم ہے تاہم جہاں تک مجھے یاد ہے وہ لکھوکھا روپے جو ربوہ کی جماعتی عمارتوں کی تعمیر کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے افراد جماعت سے عمارتیں رہن رکھ کر قرض لئے تھے وہ سارے کے سارے قرضے خدا کے فضل سے واپس ہو چکے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - پس ہم اللہ تعالیٰ کا ہر سال بلکہ ہمیشہ ہی یہ نشان دیکھتے ہیں کہ خدا کی مدد اور اس کی نصرت جماعت کے شامل حال رہتی ہے۔مالی سال کے آخر میں ہم اس کا نمایاں طور پر مشاہدہ کرتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا قدم ہر سال آگے ہی ہوتا ہے حالانکہ خود بجٹ پچھلے سال کے بجٹ سے زائد تھا۔میرے خیال میں پچھلے سال کی نسبت دو لاکھ روپے کا اضافہ تھا اور آمد بڑھوتی کے مقابلہ میں بھی زیادہ ہوئی ہے اور یہ خدا کا ایسا نشان ہے کہ ہمارے مخالفین میں سے جس کے دماغ میں ذراسی بھی عقل ہے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کی مخالفتوں کے نتیجہ میں غلبہ اسلام کے لئے جماعتی کوششوں میں کوئی غفلت یا کوتاہی ہوئی۔بجٹ دراصل ایک بنیاد ہے جس کے اوپر ہم نے اپنی ساری دینی سرگرمیوں یا مہمات دینیہ کی عمارت کھڑی کرنی ہوتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ بنیا د سال بسال مضبوط سے مضبوط تر بنتی چلی جارہی ہے۔دراصل یہ بھی ایک بہت بڑی دلیل ہے جسے اللہ تعالیٰ دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے تا کہ کسی وقت ان کو سمجھ آ جائے اور ان کی آنکھیں کھل جائیں۔جہاں تک میں نے اپنے ان دوستوں ( ہمارے نزدیک دوست ہی ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ تم نے ان کے دل جیتنے ہیں) کی تقاریر اور تحریرات کا مطالعہ کیا ہے ہر سال وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہلاک کرنے کی ان کی کوششیں سال گزشتہ کی نسبت زیادہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ہمیں ہر سال یہ نشان دکھاتا ہے کہ ہمیں کمزور کرنے اور ہلاک کرنے کے لئے جو کوششیں کی جاتی ہیں ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو قبول فرما تا اور پہلے سے کہیں زیادہ نتائج پیدا کر دیتا ہے۔