خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 168

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۸ خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۷۳ء لیکن یہیں بس نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہماری کوششوں میں ہر سال پہلے سے زیادہ تیزی پیدا ہوتی ہے۔صرف کوششوں میں تیزی نہیں آتی بلکہ کوششوں کے نتائج کوششوں کی کمیت کے مقابلہ میں ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں گویا ایک تو کوشش زیادہ ہوتی ہے دوسرے کوشش اور نتیجہ کی نسبت زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمتیں ہیں۔ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں ہماری زبانیں اس کا شکر ادا کرتے کرتے خشک ہو جا ئیں تب بھی ہم کماحقہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ مجھے خیال آیا اللہ تعالیٰ اتنے فضل اور رحم نازل کرتا ہے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں پر کیوں نہ میں ایک کتاب لکھوں۔چنانچہ کشف میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو موسلا دھار بارش کا نظارہ دکھایا اور فرمایا اگر تو بارش کے ان قطروں کو گن سکتا ہے تو پھر ایسی کتاب لکھنے کی کوشش کر جس میں میرے احسانات کو گنا جائے۔اللہ تعالیٰ کے احسان تو بے حد و حساب ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گن ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غیر محدود انعامات کی بارش برساتا ہے۔بھلا محدود انسان کی محدود طاقتیں غیر محدود فضلوں کا شکر کیسے ادا کر سکتی ہیں ؟ صاف بات یہ ہے کہ کبھی کر ہی نہیں سکتیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شکر ادا ہی نہ کریں اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر اور جماعت اجتماعی طور پر اپنی طاقت کی انتہا تک اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور خدا سے کہے اے خدا! تو نے مجھے جو قو تیں عطا کیں ان کے مطابق میری زبان پر تیری حمد کے کلمات جاری ہوئے اور میرے جسم کے ذرہ ذرہ اور میری روح کے گوشہ گوشہ سے تیری حمد وثنا کی ندا بلند ہوئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ تیرا کماحقہ شکر ادا نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکتا ہے لیکن جتنا شکر ہم ادا کر سکتے تھے اتنا شکر ادا کر دیا ہے۔پس اگر تم لين شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَتكُمْ (ابراهیم : ۸) کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی حمد کو اپنی طاقت کی انتہا تک پہنچاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس وعدہ یعنی لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ کے مطابق شکر اور حمد کی طاقت میں اضافہ کرے گا۔گو اس کے اور بھی کئی پہلو ہیں لیکن ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ جب آپ زیادہ شکر کی توفیق پائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ شدت کے