خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 152
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۲ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء سے بھی اور تعداد کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو بہت ترقی نصیب ہوئی اس وقت میرے سامنے کئی دوست بیٹھے ہیں جن کا اُن بہت ساری جماعتوں کے ساتھ تعلق ہے جو سرگودھا اور جھنگ کے بارڈر پر واقع ہیں اور ۵۳ ء کے بعد قائم ہوئی تھیں چنانچہ ہزار ہا بلکہ لاکھوں احمدی ہوئے یا دل سے احمدی ہوئے میں نے پہلے بھی بتایا تھا لا ہور میں میں نے بات کی تو چند آدمی جو ایک گاؤں سے ملنے آئے ہوئے تھے باتوں باتوں میں کہنے لگے ۵۳ء میں ہم احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانے کے لئے نکلا کرتے تھے۔پھر خدا نے ہمیں احمدیت قبول کرنے کی سعادت بخشی ، ہمیں احمدیت کا فدائی اور جاں نثار بنادیا۔پس ۵۳ ء نے اُن لوگوں پر ذلت کا داغ لگایا جو آج ۵۳ء کا نام لے رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ۵۳ ء کو احمدیت کی ترقی کا ذریعہ بنا دیا۔وہ زمانہ احمدیت کی تاریخ میں ایک Land Mark اور ترقی کا ایک نشان ہے اس لئے جب کوئی ۵۳ ء کا نام لیتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کیونکہ جماعت احمدیہ نے اُس وقت بڑی قربانیاں دیں اور اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی مہم کو اور بھی تیز کر دیا۔اگر آج احمدیت میٹ جائے تو دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں رہے گا جو اسلام کے لئے کام کرے اور اس کی ترقی اور اشاعت کے لئے قربانی دے یہ صرف جماعت احمدیہ کو شرف حاصل ہے جو اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے جان مال عزت اور وقت کی قربانی دے رہی ہے۔چنانچہ ۵۳ء کے وہ حالات جسے ڈ ہرا کر مخالفین احمدیت ناممکن الحصول خواہشات رکھتے ہیں اور خود فریبی میں مبتلا ہیں اُس میں بھی جماعت احمدیہ کو قربانیاں دینے اور بشاشت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کا موقع ملا۔دوست اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر پھر رہے تھے اور فرشتے ان کی حفاظت کر رہے تھے۔چنانچہ اس وقت جب کہ لاہور میں ہر سُو آگ لگی ہوئی تھی جماعت اسلامی کے چند کرتا دھرتا لوگوں نے ایک احمدی سے کہا اپنے حضرت صاحب سے جا کر کہو کہ زندہ رہنا ہے تو ہم جو مسودہ دیتے ہیں اُس پر دستخط کر دیں ورنہ ختم کر دیئے جاؤ گے۔بھلا حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ ان گیڈر بھبکیوں کی کیا پروا کرتے تھے اور نہ ہی جماعت احمدیہ کا کوئی اور فرد پروا کرتا تھا اور نہ اب کرتا ہے۔پھر کہنے والے ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب افسرانِ فوج اُن کو پکڑنے گئے تو کبھی گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے