خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 135
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۵ خطبه جمعه ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء نے اپنے گھر کا جائزہ لیا اور جب انہیں اپنے سارے سال کا چندہ ادا کرنے کی اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے اپنی ایک بڑی اچھی بھینس فروخت کر کے سارا چندہ ادا کر دیا۔یہی ایک مثالی روح ہے جو جماعت میں پائی جاتی ہے۔اسی روح کی بدولت جماعت خدا تعالیٰ کے احکام کی بشاشت سے پیروی کرتی ہے اور غلبہ اسلام کی مہم میں اپنا سب کچھ قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتی تا ہم کبھی ستی ہو جاتی ہے۔یہ تو درست ہے کیونکہ انسان کے ساتھ یہ چیزیں لگی ہوئی ہیں لیکن بعض منافق بھی ہوتے ہیں بعض کمزور ایمان بھی ہوتے ہیں۔لاکھ میں سے ایک ہوگا یا دس لا کھ میں سے ایک ہوگا بہر حال ہم نے ان کو بھی بیدار کرنا اور ان کی تربیت کرنی ہے۔جہاں تک جماعت کے عہدیدار کا تعلق ہے اگر کوئی شخص عہدیدار بننے کے بعد اپنے عہدہ کی ذمہ داریوں کو نباہتا نہیں تو جماعت اگر اسے پھر اگلے سال کے لئے عہد یدار منتخب کر لیتی ہے تو یہ اس پر ظلم کے مترادف ہے۔تم اس بیچارے کو کیوں گنہگار کرتے ہو؟ پس جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے مالی قربانیوں کے لحاظ سے جماعتیں تین قسم کی ہیں ایک وہ ہیں جو آج سے پندرہ دن پہلے مجھے یہ اطلاع بھجوا چکی ہیں کہ انہوں نے اپنا بجٹ پورا کر دیا ہے اور اب اپنے بجٹ سے زائد وصولی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں دوسری وہ جماعتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ وہ اپنے حصہ کا بجٹ وقت کے اندر پورا کر دیں گی اور تیسری وہ جماعتیں ہیں جو ہمیشہ ہی اپنا بجٹ پورا نہیں کر سکتیں دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ایسی جماعتوں کی حالت پر بھی رحم فرمائے۔بہر حال یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ہماری جماعت مخلصین اسلام کی جماعت ہے اس لئے اس کے اندر کوئی شیطانی کمزوری نہیں پائی جاتی مخلصین کی یہ جماعت ہمیشہ کوشش کرتی ہے اور جیسا کہ فرمانے والے نے فرمایا ہے ہر سال ان کا قدم آگے بڑھے پیچھے نہ ہے۔چنانچہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ جماعت روز افزوں ترقی پر ہے لیکن کچھ افراد کمزور ہوتے ہیں ان کی تربیت کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔پس گو مالی سال کے ختم ہونے میں بہت تھوڑ اوقت رہ گیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ پورا ہو جائے گا تاہم جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں کہ اپنے اپنے