خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 115
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۵ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء اٹھانے میں ذرا بھی عار نہیں سمجھتا اور اپنی فطرت کے خلاف نہیں پاتا لیکن وہی چوری کا مال جب کوئی دوسرا چور اٹھا لیتا ہے تو شور مچادیتا ہے کہ یہ کیا ہو گیا یہ تو انصاف کے خلاف ہے۔چنانچہ وہ اس سے جا کر لڑتا ہے اور اسے مارنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پس اصلاح بین الناس یعنی معاشرہ کی جو اصلاح ہے یا انسان کے جو باہمی تعلقات ہیں (انسان انسان میں بڑے وسیع اور گہرے تعلقات ہیں) ان کو فلاح کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔فساد کی بنیاد پر قائم نہیں ہونا چاہیے۔غرض قرآنِ کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مشورے اچھے اور بھلے اور بہتر ہیں جو تین مختلف قسم کی باتوں کے متعلق ہوں۔ایک یہ کہ اقتصادی خوشحالی کے سامان پیدا کرنے والے ہوں۔حقوق العباد کی ادائیگی سے ان کا تعلق ہو، اُن میں فساد کا کوئی شائبہ نہ ہو دوسرے روحانی طور پر مشورے ہیں۔میں اس سلسلہ میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جو شخص مال لینے والا ہے اس کے جسمانی اور مادی حقوق ہیں مثلاً اس کی طاقتوں اور استعدادوں کی نشو ونما ہونے والی تھی اس کے لئے کچھ چیزیں درکار تھیں جن کے بغیر اس کی نشو و نما نہیں ہو سکتی تھی چنانچہ اس کی نشو ونما کے لئے سازگار حالات پیدا کئے گئے اور جو دینے والا ہے، وہ بھی صدقہ کے اندر آجاتا ہے ہاں اس کے وجود کے بہت سارے روحانی پہلو جو کمزور تھے ان کی کمزوری دور ہوگئی گویا ایک طرف بڑے نمایاں طور پر یہ ایک اقتصادی مسئلہ ہے اور دوسری طرف یہ ایک بڑا گہرا روحانی مسئلہ ہے۔تمہارے اموال میں دوسروں کا جو حق ہے اگر وہ تم ادا نہیں کرو گے تو اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ تم روحانی برکات سے محروم ہو جاؤ گے۔تیسرے، إِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ “ کی رُو سے تمہارے آپس کے تعلقات ہیں۔ان میں سے بعض کے اوپر دنیا کے اصول چلتے اور بعض پر روحانی اصول بھی چلتے ہیں گویا معاشرہ کو دونوں قسم کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔جن کو ایک مسلمان اسلامی تعلیم کی روشنی میں اور غیر مسلم محض انسانی عقل اور فراست اور فطرت صحیحہ کی روشنی میں حل کرے گا۔موخر الذکر صورت میں گو کئی مسئلہ کا حل تو کسی حد تک مل جائے گا لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں جو مشورہ بھی مذکورہ تین بنیادی اصول کے خلاف ہوتا ہے وہ خیر کی بجائے فساد اور بُرائی کو پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے مشورے کی اجازت نہیں دیتا۔