خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 116
خطبات ناصر جلد پنجم 117 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ جو شخص مذکورہ اصول کو یاد نہیں رکھتا اور ان کی خلاف ورزی کر کے دنیا میں اقتصادی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ عملاً جماعت احمدیہ سے نکل جاتا ہے۔خواہ اس کے اوپر نظام جماعت نے کوئی جرم عائد کیا یا نہ کیا اور اس کو سزادی یا نہ دی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ بہر حال احمدی نہیں رہتا۔پس یہ بڑے فکر کی بات ہے اور ہر وقت بیدار رہ کر اپنی زندگیوں کو اسلام کے بتائے ہوئے اصول پر ڈھالنے کا سوال ہے۔کسی شخص کو ایسے مشوروں میں شامل نہیں ہونا چاہیے جو موجب فساد ہوں ورنہ ہم وہ مقصد حاصل نہیں کر سکتے جس کے حصول کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اور جس کی خاطر اس کے اندر اتنا جذبہ پیدا کیا گیا کہ وہ آج ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق ملے تا کہ تمام بنی نوع انسان اسلام کے اُس حسین معاشرہ کا حصہ بن جائیں جسے اللہ تعالیٰ مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ بنی نوع انسان کی خاطر دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ / جون ۱۹۷۳ ء صفحه ۲ تا ۶ )