خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 109
خطبات ناصر جلد پنجم 1+9 خطبہ جمعہ ۱/۶ پریل ۱۹۷۳ء کا موقف یہ تھا کہ ہم نے ہڑتالوں میں حصہ نہیں لینا۔ہڑتالوں کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔قانون نے اجتماعی سودے بازی کی اجازت دے دی ہے اس واسطے مسئلہ بدل گیا۔جب ہڑتالیں کرنا غیر قانونی فعل تھا، منع تھا اب یہ قانون کی ذیل میں آ گیا ہے تو وہ ممانعت نہیں رہی لیکن یہ تین شرائط اپنی جگہ پر قائم ہیں۔اگر احمدی مزدور کسی کارخانے میں مزدوری کرتے ہوں اور اجتماعی سودے بازی کا سوال پیدا ہو تو ایک احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا مشورہ دے جس سے اقتصادی خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔بعض دفعہ مزدور غصہ میں آکر کہتا ہے کہ کارخانے کو آگ لگا دی جائے یا مزدور سر جوڑتے اور یہ مشورہ کرتے ہیں کہ پیداوار کو تلف کر دیا جائے مثلاً ایک لاکھ روپے کا کپڑا پڑا ہے اس کو آگ لگا دی جائے تا کہ مالک کو بھی پتہ لگے کہ وہ ہمارے حقوق کیوں ادا نہیں کر رہا۔یہ غصہ کا اظہار تو ضرور ہے لیکن یہ صدقہ کے اصول پر مشورہ نہیں ہے۔جو مال ضائع ہو جاتا ہے اگر چہ وہ ایک لحاظ سے خرچ ہی ہے لیکن وہ ہمارے کام کا نہیں رہتا۔یہ ایسا خرچ نہیں جو خدا تعالیٰ کو خوش کرنے والا ہو اور اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بننے والا ہو نہ یہ ایسا خرچ کہ جو حقوق العباد کی ادائیگی کی ذیل میں آتا ہو کیونکہ مال تو ضائع ہو جاتا ہے۔یہ اگر چہ خرچ کے صحیح معنوں میں نہیں آتا تاہم یہ مشورہ صدقہ کی اصطلاح میں آجاتا ہے اور یہ ایسا مشورہ ہے کہ جس کے نتیجہ میں اقتصادی خوشحالی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں بلکہ اقتصادی بدحالی پیدا ہونے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے جس کی اجازت شریعت حقہ نہیں دیتی۔غرض اس قسم کے مشوروں میں جو اجتماعی سودے بازی کے لئے ہوں۔موجودہ حالات میں ان کی ایک حد تک اجازت بھی دی گئی ہے۔یہ ایک نسبتی خیر ہے کہ اُن محنت کشوں کے حقوق صحیح معنوں میں ادا ہو جائیں۔اس کے متعلق میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں اب بھی ضرورت پڑی تو قرآن کریم ہی کی روشنی میں کچھ کہوں گا۔بہر حال اقتصادی خوشحالی کے لئے مشورے ہوتے ہیں لیکن اگر کسی کے مشورہ کے نتیجہ میں حقوق العباد ادا نہ ہوں یا ادا نہ ہو سکتے ہوں بلکہ ان کی ادائیگی میں روک پیدا ہو جائے مثلاً اگر