خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 74
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء ہماری حقیر مساعی میں برکتیں ڈالیں اور رحمتوں کی بارشیں برسائیں۔پھر اس کے بعد بھی وہ خدا جو غیر محدود خزانوں کا مالک ہے اپنی رحمتوں کے خزانہ سے ہم پر بے انتہا فضل اور برکتیں نازل کر رہا ہے۔تاہم جماعت احمد یہ کو یہ بات اچھی طرح سے یاد رکھنی چاہیے کہ ہم وہاں پیسہ کمانے کے لئے نہیں بلکہ اہل افریقہ کی خدمت کرنے کے لئے گئے ہیں۔گو اللہ تعالیٰ ہمیں پیسے بھی دیتا ہے لیکن وہ بھی انہی پر خرچ کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔شروع میں یہاں سے جو ڈاکٹر اور پروفیسر صاحبان وہاں گئے تھے ان میں سے بعض نے مجھے یہ لکھا کہ یہ لوگ کچھ عرصہ کے بعد ہمارے طبی مراکز اور کالجوں کو قومی ملکیت میں لے لیں گے۔اس لئے ان کے نزدیک ہمیں ہسپتالوں اور کالجوں کی عمارتوں پر رقم خرچ نہیں کرنی چاہیے۔میں نے اُن کو یہی جواب دیا کہ ہم وہاں اُن کی خدمت کے لئے گئے ہیں۔جس وقت بھی وہ قو میں جس حد تک طبی مراکز اور کالج سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گی ہمارے لئے خوشی کا باعث ہوگا اور ہم بشاشت کے ساتھ اُن کو پیش کر دیں گے کہ یہ لوا اپنی چیز اور اس کو سنبھالو۔لہذا خرچ کی راہ میں یہ امر میرے لئے روک نہیں بن سکتا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ نائیجیریا میں نئے دستور کے مطابق موجودہ حکومت نے بارہ صوبے (جن کو وہ امریکہ کی طرح سٹیٹیں کہتے ہیں) بنا دیئے ہیں۔چھ شمالی صوبے ہیں جن میں بہت بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے۔شمالی صوبوں میں شاید ۹۸-۹۹ فیصد مسلمان آباد ہیں۔چھ صوبے جنوب میں ہیں جن میں بعض جگہوں پر غیر مسلم کچھ زیادہ ہیں اور بعض جگہوں پر وہاں بھی ۴۵ ۴۶ فیصد مسلمان آباد ہیں۔گویا نائیجیر یا حقیقتاً ایک مسلمان ملک ہے۔اُن کی اپنی ایک تاریخ، اپنا ایک شاندار ماضی ہے قوموں پر ابتلا آتے رہتے ہیں۔نائیجیرین قوم بھی بعض لحاظ سے ایک ابتلا میں سے گذر رہی ہے لیکن اس وقت جو سر براہ مملکت ہیں اور جن کا نام یعقو بوگوون ہے۔وہ دل کے بڑے اچھے ہیں۔مسلمانوں کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں جس طرح عیسائی بھائیوں کا رکھتے ہیں۔عیسائیوں اور مسلمانوں میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے۔خدا تعالیٰ نے اُن کو بڑا پیار کرنے والا دل اور بڑا سمجھدار دماغ عطا فرمایا ہے۔