خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 809
خطبات ناصر جلد پنجم 1+9 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء خوشحالیاں اور جائز لذتیں اور سرور ہیں اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ میرے بندے ان کو حاصل کریں ، اُن کی طرف بھی اسلام نے رہنمائی کی اور اُن کے اصول کے لئے وسیع سامان بھی پیدا کئے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے جس کو مختصر طور پر یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی ابدی خوشحالی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت کے ساتھ ہے جب انسان کو اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل ہو جاتا ہے یعنی اُسے یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قسم کی ہستی ہے اور وہ کن صفات کی مالک ہے قرآن کریم نے صفات الہیہ کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت اس کی مخلوق کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔اور کس طرح اُس کی وسیع رحمت ہر چیز پر حاوی ہے کس طرح اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ہر حصہ کے حقوق کی تعیین کرتا اور اُن کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح اُس نے انسان کے علاوہ اپنی مخلوق کو انسان کا خادم بنا رکھا ہے۔کس طرح اللہ تعالیٰ کی حمتیں انسان پر نازل ہوتیں اور کس طرح ان رحمتوں کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے آشنا ہوتا ہے کس طرح اس معرفت کے بعد انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کی عظمت کو دیکھ کر انسان کا دل لرزاں و ترساں ہو کر اللہ کی طرف جھکتا ہے، اس خوف سے نہیں کہ وہ کوئی ڈراؤنی چیز ہے بلکہ اس خوف سے کہ اتنی عظمتوں والی ہستی اگر ناراض ہو گئی تو انسان کا باقی کچھ نہیں رہے گا۔پس نجات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے اور یہی معرفت ہے جس کے نتیجہ میں محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا ہوتا ہے۔اس زندہ تعلق کے نتیجہ میں انسان کو اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی اتنی خوشیاں مل جاتی ہیں کہ اسے کسی اور چیز کی کوئی احتیاج باقی نہیں رہتی اور نہ کسی چیز کی کمی کا کوئی احساس باقی رہتا ہے۔پس اسلام نے نجات کے حقیقی معنوں کو کھول کر بیان کیا اور بتایا کہ انسان کو حقیقی خوشی اور خوشحالی۔ابدی لذتیں اور سرور اللہ تعالیٰ کی معرفت کے نتیجہ میں ملتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے نتیجہ میں خشیت اللہ اور محبت الہیہ پیدا ہوتی ہے۔محبت خود ایک بڑا سرور ہے۔جولوگ روحانی محبت کا تجربہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس میں کتنا عظیم سرور ہے۔اس کے مقابلہ میں مادی دنیا سے جو لذتیں تعلق رکھتی ہیں وہ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔مثلاً پسندیدہ کھانا