خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 802
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۰۲ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء طریق میں ، اُن کے تخاطب میں ، اُن کے سلوک میں اُن کے دل میں خالقِ خدا کے لئے جو پیار اور ہمدردی ہے وہ ظاہر ہو رہی ہوتی ہے اور ایک نمایاں فرق ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جو ابھی زیر تربیت احمدی ہیں بوجہ اس کے کہ نئے نئے جوان ہوئے یا بوجہ اس کے کہ وہ احمدیت میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں اُن میں بھی تھوڑی سی تربیت کے بعد اس رنگ کی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے کہ فوراً پتہ لگ جاتا ہے بعض دفعہ دوست اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو لے آتے ہیں اور ایک دو فقروں میں ہی میں سمجھ جاتا ہوں کہ ان کو بہت سی تربیت کی ضرورت ہے یعنی ابھی احمدیت کی تربیت ، اسلام کی تربیت، ایمان کی تربیت کے حصول کی ابتدا انہوں نے نہیں کی گفتگو ہے، چلنے کا طریق ہے۔چلنے کے طریق سے مجھے یاد آیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں شامل ہونے کے لئے دوڑتے ہوئے آتے دیکھ کر فرمایا الوَقَارَ الوَقَارَ کہ تمہاری چال میں ایک مومن کا وقار نہیں نظر آتا تو معلوم ہوا کہ مومن کی چال ایک غیر مومن کی چال سے امتیاز رکھتی ہے ان کے درمیان ایک فرقان پایا جاتا ہے۔پھر مثال کے طور پر کپڑوں کی نگہداشت ہے۔ٹھیک ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بہت سی کمزوریاں ہیں بہت سے مومنوں سے بھی کمزوریاں سرزد ہو جاتی ہیں لیکن ایک امتیاز ہے۔اکثریت کو جب ہم دیکھتے ہیں تو جو مومن ہے وہ کپڑے کو اُس سے بہتر جوعمل صالح ہے اُس پر ترجیح نہیں دے گا اور وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ بي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ آپ کا اُسوہ ہے کہ میری زندگی اور میرے رہن سہن میں تمہیں کوئی تکلف نظر نہیں آئے گا اور آپ نے دیکھا ہوگا اور یہ میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ جو احمدی ایسے ہوں جن میں یہ چھوٹی سی کمزوری ہو اس کو بھی دُور ہونا چاہیے کیونکہ اُس سے فرقان میں اور امتیاز میں فرق آتا ہے بعض لوگ ہوتے ہیں کہ کپڑا پہنا ہو گا اور مٹی پر بیٹھنے سے پر ہیز کریں گے۔حالانکہ کئی دفعہ زمین پر بغیر کپڑا بچھائے بیٹھنا ثواب کا موجب بن جاتا ہے، یا اگر اُن کے کپڑوں پر کہیں مٹی لگ جائے تو فوراً جھاڑ پھونک شروع کر دیتے ہیں اور اپنے کپڑوں سے مٹی اڑانے لگ جاتے ہیں۔جس چیز سے بنے ہیں اُسی سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔بہر حال بعض دفعہ مٹی پر بیٹھنا بھی ثواب کا کام بن جاتا ہے ایک دفعہ مجھے یاد ہے سٹھیالی میں ہمارے احمدیوں کے دو گروہوں میں آپس کا