خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 800 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 800

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء حصول پر ختم ہوتی ہے اور پھر اس کی ترقیات اُس نقطہ سے ایک اور رنگ میں آگے بڑھتی ہیں۔مثلاً جنت کا جو تصور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان یعنی شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں دیا ہے وہ یہ نہیں کہ جنت میں عمل نہیں ہو گا بلکہ وہ یہ ہے کہ جنت میں کوئی امتحان نہیں لیا جائے گا۔عمل تو ہوں گے لیکن ایسے اعمال وہاں نہیں ہوں گے جیسے امتحان کا عمل ہے کہ جس کے نتیجہ میں سزا اور انعام ہر دو کا امکان ہو۔ایک طالبعلم جب امتحان میں بیٹھتا ہے تو اس کے لئے یہ بھی امکان ہے کہ وہ نا کام ہو جائے اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے تو جنت کے اعمال اپنے اندر امتحان کا رنگ نہیں رکھتے لیکن کسی کا یہ تصور کہ جو اسلام نے جنت بتائی ہے اس میں انسان غفلت اور کسل کی بیماری میں مبتلا ہو گا اور کوئی کام نہیں کرے گا۔یہ قرآنِ کریم کا تصور نہیں ہے بلکہ قرآنِ کریم نے اور اس کی تفسیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نے تو یہ بتایا ہے کہ جنت میں انسان روزانہ اس قدر کام کرے گا کہ اگلے دن اس کا مقام پہلے دن سے بلند ہوگا ، اس دنیا میں ساری عمر جو ہم کام کرتے ہیں ( یہ ٹھیک ہے کہ ایک آدمی کی جنت اور دوسرے کی جنت میں فرق ہے لیکن ) اس کا نتیجہ بظاہر یہی نکلتا ہے کہ خدا نے فضل کیا اور اس کی رحمت سے انسان جنت کا مستحق ہو گیا اور کئی ہیں جو نا کام ہوئے اور ناکامی کی سزا انہیں مرنے کے بعد بھگتنی پڑی لیکن جو کامیاب ہوئے ساری عمر کی کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمتوں کی جنت انہوں نے حاصل کی لیکن جنّت کے شب و روز غفلت کے شب و روز نہیں۔وہاں جو اعمال انسان کو کرنے کے لئے بتائے جائیں گے وہ اس قسم کے ہیں کہ روزانہ ہی درجات کو بلند کرنے والے اور انسان کو اپنے رب کے قریب سے قریب کرنے والے ہوں گے بہر حال اس دنیا میں ہماری سیر روحانی یہاں سے شروع ہوتی ہے گو گنا ہوں سے اور غفلتوں سے اور کوتاہیوں سے ایسے اعمال سے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے انسان بچنے کی کوشش کرے اور تقویٰ کا ایک پہلو یا بڑا پہلو یہی ہے۔اس کی تفصیل میں تو اس وقت میں نہیں جاؤں گا لیکن یہ کہنا یقیناً درست ہوگا کہ انسان کی سلامتی کے لئے یعنی خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہنے کے لئے اور غفلت کے نتیجہ خدا تعالیٰ کے قہر کے وارث ہونے سے بچنے کے لئے تقویٰ تعویذ کا کام دیتا ہے اور حفاظت کرتا ہے اور ہر قسم کے فتن اور