خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 799
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۹ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء اس تصدیق ، اس حقیقت، اس حقانیت، اس ہدایت اس شریعت کے مطابق ہو اور مفردات راغب میں لکھا ہے ان تینوں میں سے ہر ایک کو ایمان کہا جاتا ہے۔وَيُقَالُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنَ الْاِعْتِقَادِ وَالْقَوْلِ الصّدقِ وَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ اِيْمَانًا اور تقویٰ کے معنی ہیں کہ اپنے نفس کو اُن باتوں سے محفوظ رکھنا جو گناہ ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور اِتَّقَى فَلَانَّ بِكَذَا إِذَا جَعَلَهُ وِقَايَةً لِنَفْسِه۔اس واسطے ہم تقویٰ کے معنی یہ کیا کرتے ہیں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کا مطلب ہے کہ اللہ کو اپنے لئے ڈھال کے طور پر حفاظت کا ذریعہ بناؤ۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں پر فرمایا کہ جو شریعت محمدیہ یعنی ایمان کی نگہداشت اور حفاظت کرتا ہے یعنی شریعت محمدیہ پر ایمان رکھتے ہوئے یہ حفاظت کرتا ہے کہ اُس کا نفس کوئی ایسا کام نہ کرے جس کی شریعت محمدیہ نے اجازت نہیں دی اور کوئی ایسا کام کرنے سے رہ نہ جائے جس کا حکم اُس شریعت کی طرف سے دیا گیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس کے ساتھ جو تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے لئے بطور ڈھال کے اور ذریعۂ حفاظت بنالیتا ہے یعنی دُعائیں کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی پناہ میں وہ آ جائے تاکہ شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے وہ محفوظ رہ سکے تو ایسے متقیوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے یعنی اپنے انعاموں اور اپنی رحمتوں اور اپنی رضا سے انہیں نوازتا ہے۔تقویٰ پر قرآن کریم نے یعنی شریعت محمدیہ نے بڑا زور دیا ہے اور دراصل انسان کی روحانی ترقیات کی ابتدا گناہوں سے بچنے کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔کیونکہ جب تک زمین کو اعمالِ صالحہ کے بیچ لگانے کے لئے تیا نہ کیا جائے اُس وقت تک وہ بیج اگر لگائے بھی جائیں پنپ نہیں سکتے۔اس میں شک نہیں کہ انسان اپنی فطرت میں کمزور ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس کمزوری کے بد نتائج سے بچنے کے لئے شریعت محمدیہ نے ہمیں تعلیم دی ہے اور وہ راہیں بتائی ہیں کہ جن پر چل کر انسان یا ان کمزوریوں سے بچ جاتا ہے یا اگر کوئی بشری کمزوری سرزد ہو جائے تو اس کے بدنتائج سے وہ محفوظ ہو جاتا ہے مثلاً تو بہ ہے اور استغفار ہے۔بہر حال انسان کی سیر روحانی بدیوں سے بچنے کی کوشش سے شروع ہوتی اور اس کی انتہا اپنے اپنے ظرف کے مطابق قرب الہی کے