خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 798 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 798

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۸ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء اور ہر حالت میں کسی چیز کی حفاظت کرنا اور مفردات راغب نے اوفُوا بِالْعَهْدِ کے معنی یہ کئے ہیں اَوْ فُوا بِحِفْظ الایمان اپنے عہد کی حفاظت کرو، اپنے ایمان کی حفاظت کرو اور ایمان کے معنی مفردات راغب نے یہ کئے ہیں کہ کبھی یہ اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے،اِسْمًا لِلشَّرِيعَةِ الَّتِي جَاءَ بِهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ - یعنی ایمان اُس شریعت کا نام ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے۔جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس شریعت کا نام اور اسم ایمان ہے۔لفظ ایمان بطور اسم اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔پس آوفُوا بِالْعَهْدِ کے یہ معنی ہوں گے کہ شریعت محمدیہ نے جو احکام اوامر ونواہی کی شکل میں دیئے ہیں اُن کی نگہداشت کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی کام کے نہ کرنے کا حکم ہو اور غلطی سے تم وہ عمل بجالاؤ جس سے روکا گیا ہے اور کسی کام کے کرنے کا حکم ہو اور غفلت سے تم اُسے چھوڑ دو اور عمل نہ کرو۔پس فرمایا کہ جو شریعت محمدیہ کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور اس عہد کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی حکم بجا آوری سے رہ نہ جائے اور کسی نہی کا انسان غفلت کے نتیجہ میں مرتکب نہ ہو جائے۔وَاتَّقَوا اور جو تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے متقیوں پر اپنے انعامات اور رحمتیں نازل کرتا ہے ایمان کی حفاظت کے تین رُخ ہیں ایک مومن مذہبی رنگ میں اُس وقت مومن کہلاتا ہے جب اُس میں تین باتیں پائی جائیں۔ایک تو یہ کہ وہ دل سے حق کو حق سمجھے۔دوسرے زبان سے حق کا اقرار کرے اور تیسرے اسی کے مطابق یعنی حق اور ہدایت کے مطابق اُس کے جوارح یعنی اُس کی عملی قوتیں عمل میں مصروف ہوں۔یہ لغوی باتیں میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ چیزیں بہت سے دوستوں کے ذہن میں نہیں ہیں۔ایک تو میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایمان نام ہے شریعت محمدیہ کا۔جس طرح میرے سامنے دوست بیٹھے ہیں۔ان کے اپنے اپنے نام ہیں۔میرا نام ناصر ہے۔اسی طرح ایمان شریعت محمدیہ کا نام ہے۔دوسرے میں نے بتایا کہ تین چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں یعنی زبان کا اقرار اور دل کی تصدیق یعنی حق کو حق سمجھنے کی کیفیت قلبی اور ذہنی اور جو قوائے علیہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں ان کے ذریعہ سے بھی عمل