خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 793
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۳ خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء ایک وہ جو دوسروں کو دکھ دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا کرے اور قوم کو ایسی ذہنیت سے محفوظ رکھے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو ہر غیر کو بھی سکھ پہنچانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اپنا ہے یا بیگا نہ بلکہ ہر ایک کوشکھ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے کسی احمدی کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ سکھ پہنچانے کے لئے کسی احمدی کی تلاش کی جائے بلکہ اُسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اُسے سکھ پہنچانے کے لئے کسی انسان یا کسی حیوان یا کسی جس رکھنے والی مخلوق کی ضرورت ہے۔دنیا سے دُکھ کو دُور کرنا اُس کا نصب العین ہونا چاہیے۔اگر اس نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے تو اُسے یہ طریق اختیار کرنا پڑے گا کیونکہ اگر وہ دنیا میں دُکھ پیدا کرنے کا موجب بنے گا تو خدا تعالیٰ کی رحمت اور اُس کے پیار سے اور اس کی محبت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔تیسری بات ہمیں ان آیات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرآنِ عظیم ایک عظیم شریعت ہے اس نے مخلوق کے حقوق قائم کئے اور اصلاح کے سامان پیدا کئے۔اسی لئے فرما یا بعد اصلاحِهَا۔تو اصلاح کے سامان خود قرآن کریم نے پیدا کئے ہیں۔گویا ہر انسان کے حقوق کی اور حیوانات کے حقوق کی اور نباتات کے حقوق کی اور جمادات کے حقوق کی یعنی ہر مخلوق کے حقوق کی تعیین قرآنِ عظیم میں پائی جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس عالمین میں اصلاح اور صلاحیت امن اور آشتی کی ایک فضا پیدا ہوتی ہے۔پس قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخاطب کر کے اور پہلے مسلمان کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ انسانی حقوق قائم کر دیئے گئے۔انسان اپنے حقوق کے دائرہ کے اندررہ کرفساد کے حالات سے بچے اور اصلاح کے حالات پیدا کرے کیونکہ حق سے تجاوز کرنا ہر دو معنی میں جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے فساد کے حالات کے پیدا کرنے کے مترادف ہے۔پھر فرمایا تم دعائیں کرو اور بہت دعائیں کرو کہ تم خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والے نہ بن جاؤ۔خوفا اس سے کہ اللہ تعالیٰ کہیں ناراض نہ ہو جائے ، حقوق کے دائرہ کے اندر اپنے اعمال کو رکھو یعنی اپنے حق سے زیادہ نہ مانگو اور نہ لو۔کسی اور کی حق تلفی کرنے پر جرات نہ کرو۔تمہارے