خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 794 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 794

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۹۴ خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء دلوں میں یہ خوف پیدا ہونا چاہیے کہ اگر ایسا کیا تو پھر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا اور ہم اس کی جنت کو نہیں پاسکیں گے اور طمعا اس امید پر، اس طمع سے کہ اگر ہم شرائط کے ساتھ عمل کریں گے تو محسن ہونے کی صورت میں اُس کی رحمت پائیں گے۔دراصل مُحْسِن کے معنی ہیں تمام شرائط کے ساتھ حسن عمل کرنے والا۔صرف عمل کرنے والا نہیں بلکہ شرائط کے ساتھ جو عمل ہو گا وہ حسن عمل بن جائے گا۔غرض جو شخص تمام شرائط پوری کرتے ہوئے حسنِ عمل بجالانے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قریب پائے گا۔جو شخص دُکھ کے مقابلہ میں دوسروں کے لئے سکھ کے سامان پیدا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بڑا پیار حاصل کرتا ہے۔بعض دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جی ! لوگوں نے ہمیں بڑا دکھ پہنچایا ہے اس لئے اس کا بدلہ (اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ) ہم لے لیں تو کیا کوئی حرج تو نہیں؟ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ دیکھو! قرآن کریم نے بدلہ لینے کے لئے بھی اصول وضع کئے ہیں اور اس کے لئے بھی احکام جاری کئے ہیں۔قرآنِ کریم نے یہ نہیں کہا کہ تم اپنی مرضی سے جس قسم کا بدلہ لینا چاہو وہ لے لو۔مثلاً قرآن کریم نے ایک بڑا حسین اصول یہ وضع کیا ہے کہ بدلہ لینے کا اصل مقصد اصلاح ہونی چاہیے۔اگر کسی کو معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہے تو بدلہ لینے کا تمہیں حکم ہی نہیں۔نہ قانون شکنی کی تمہیں اجازت ہے۔اس کی بڑی لمبی تفصیل ہے۔میں اصولاً یہ بتا رہا ہوں کہ خود بدلہ لینے کے قوانین وضع نہیں کرنے۔قرآنِ کریم کہتا ہے کہ بدلہ اس رنگ میں نہ لو کہ حق سے تجاوز کر جاؤ۔تم کسی سے اس رنگ میں بدلہ نہ لو کہ جس نے تم پر ظلم کیا مقابلہ میں بدلہ لیتے وقت تم نے بھی ظلم کر دیا اور اس کی حق تلفی کر دی۔خدا نے اس کی اجازت نہیں دی۔تم بدلہ لیتے وقت یہ خیال رکھو کہ اگر اس کی اصلاح کی اُمید ہو تو اپنا حق چھوڑ کر بھی اُس شخص کی اصلاح کی کوشش کرو۔تم کسی کی خوشی اور سکھ کے لئے اپنے حق کی قربانی دے دو۔پس ہمیں قرآنِ عظیم کی ہدایات پر ہر وقت غور کرتے رہنا چاہیے اور اپنے اعمال کو ان احکام کے مطابق ڈھالنا چاہیے، یہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیار اور اس کی رضا