خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 789
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۹ خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء ہیں لیکن ان کا ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کی یہ ذہنیت نہیں ہوتی وہ ملک میں رہنے والے ہر شہری کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتے اور دُکھوں کو دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔غیر ترقی یافتہ اور ترقی کی خواہش رکھنے والی اقوام میں مختلف نسبتوں کے ساتھ یہ ذہنیت ہمیں نظر آتی ہے۔اس تمہید کے بعد میں اپنے ملک کی طرف آتا ہوں۔ہمارے ملک میں یہ گندی ذہنیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور اس میں صرف احمدیت کا تعصب نہیں بلکہ جہاں کہیں بھی آپ کو کوئی دُکھ پہنچانے والا ملتا ہے وہ عام شہری ہے یا حکومت کا کوئی کارندہ ، اسے دیکھ کر آپ یہ نہ سمجھ لیا کریں کہ وہ صرف احمدیت کی وجہ سے آپ کو دُ کھ پہنچارہا ہے۔ہمارے اس ملک میں کثرت کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جو ایک دوسرے کو دُکھ پہنچانے میں مصروف ہیں مثلاً سنی سنتی کو دُکھ پہنچا رہا ہے اور شیعہ شیعہ کو دُکھ پہنچا رہا ہے اور اپنے ہی گھر والا اپنے بھائی کو دُکھ پہنچا رہا ہے۔کیا آپ اخباروں میں بھائیوں کی آپس میں لڑائیوں کے متعلق پڑھتے نہیں ؟ تو وہاں تو عقیدہ کے اختلاف کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ایک ہی گھر میں پیدا ہوئے ایک ماں باپ کی اولا د لیکن اُن کی ذہنیت ایسی ہے کہ ہر بھائی دوسرے کو دُکھ پہنچانے میں لذت اور سرور محسوس کرتا ہے۔بدقسمتی سے اس قسم کی ذہنیت والے لوگ حکومت کے نوکر اور عوام کے خادموں میں بھی ہیں لیکن ان کی کثرت نہیں ہونی چاہیے۔استثنائی طور پر تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے انگریز کے زمانہ میں بھی جب کہ برٹش ایمپائر پر سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا شاید لاکھوں میں ایک آدمی اُن میں بھی ہو جو اذیت پسند ہولیکن جب قوم میں کثرت اس ذہنیت کے لوگوں کی ہو جائے کہ کسی کو سکھ نہیں پہنچانا، دوسروں کو دُکھ پہنچانا ہے اور دُکھوں کو دور نہیں کرنا اور اگر کسی کو سکھ پہنچا ہوا ہو اور وہ چین سے زندگی بسر کر رہا ہو تو اس کو اس سے محروم کرنے کی کوشش کرنی ہے تو پھر قوم ترقی کر ہی نہیں سکتی اس لئے کہ مملکت کے شہریوں کے مجموعہ سے مملکت اور ملک بنتا ہے۔مثلاً اگر ہر فرد کو ایک ایک کر کے اور چن چن کر ނ غریب بنادیا جائے تو سارا ملک غریب ہو جائے گا۔اگر ایک ایک آدمی کو پڑھائی سے اور علم - محروم کر دیا جائے تو وہ جاہلوں کی قوم بن جائے گی لیکن اگر انفرادی طور پر ہر فرد کو علم سکھا یا جائے اس کی علمی ترقی کے لئے کوشش کی جائے۔اگر وہ روزی کمانے کے لئے جدو جہد کرتا ہے تو اس