خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 790 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 790

خطبات ناصر جلد پنجم 490 خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء میں اس کی مدد کی جائے ، حصول رزق کے لئے اس کی رہنمائی کی جائے ، ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ اس کی کوششیں بار آور ہوں اور وہ امیر بن جائے۔اگر ہر فردا میر ہو جائے تو گویا ملک امیر بن جائے گا۔اگر پچاس فی صد لوگ امیر ہوں اور پچاس فی صد غریب ہوں تو وہ ملک درمیانہ درجہ کا ہوتا ہے۔اقتصادی لحاظ سے وہ کوئی دولت مند ملک نہیں کہلائے گا۔اسی لئے جمہوریت کی یہ تعریف کی گئی ہے۔( طالب علمی کے زمانہ میں یہ میرا مضمون رہا ہے ) کہ جمہوریت کچھ اس قسم کی حکومت ہے کہ جس میں One for all and all for one) کا اصول کارفرما ہوتا ہے یعنی ہر فرد قوم کی خاطر زندگی گزار رہا ہوتا ہے اور ساری قوم اُس ایک فرد کے لئے زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔یہ ہے جمہوریت کی صحیح تعریف۔بڑے بڑے ماہرین سیاست نے اپنی فلسفیانہ بحثوں میں یہ کہا ہے کہ فرد واحد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں سب کے لئے قربانی دے کر بہت سی باتوں سے محروم ہو جاؤں گا اس لئے کہ ایک سب کے لئے اور سب اُس ایک کے لئے“ کے اصول کی رُو سے فرض کرو کسی ملک کی آبادی چھ کروڑ ہے تو اگر ایک شخص چھ کروڑ کے لئے قربانی دے رہا ہے تو اس کو اس لئے نقصان نہیں کہ چھ کروڑ اُس ایک کے لئے قربانی دے رہے ہوں گے اور اس کو بہر حال فائدہ ہے کیونکہ اُس ایک نے جو کچھ قوم کی خاطر کھو دیا اور چھ کروڑ سے کچھ حاصل کر لیا۔پس اس ایک نے جو کچھ کھویا اس کے مقابلہ میں چھ کروڑ سے جو حاصل کیا وہ بہر حال زیادہ ہے۔وہ عقلاً بھی زیادہ ہے اور عملاً بھی زیادہ ہے۔جمہوریت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ چھ کروڑ میں سے پانچ کروڑ نوے لاکھ کی اکثریت دس لاکھ کو کھا جائے اور کہے کہ جوا کثریت ہے وہ اقلیت کو دُکھ ہی پہنچایا کرتی ہے اور کھا ہی لیا کرتی ہے، یہ جمہوریت نہیں۔یہ ایذا دہی ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے :۔اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ جب قوم کی اکثریت اعتدا کے گناہ میں ملوث ہو جائے اور اکثریت ایک دوسرے کو دُکھ پہنچانے لگے اور اعتقاد اعتقاد کا فرق ، قوم قوم کا فرق، خاندان خاندان کا فرق ، علاقے علاقے کا فرق اور خطے خطے کا فرق ہونے لگے اور ایذا دہی کی بنیا د بنے تو اس قسم کا تعصب اور اس قسم کی ذہنیت جس کا مقصد ایک دوسرے کو ایذا اور نقصان پہنچانا ہوتا ہے، ملک وملت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ایسی ذہنیت اعتقادات کی حدود کو پھاند کر