خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 785
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۵ خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء اجتماعی طور پر بھی کرو اور انفرادی طور پر بھی اور یہ یاد رکھو کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے اُس کے فضل کو جذب نہیں کیا جاتا ، انسان حقوق کے دائرہ میں نہیں رہتا ، وہ اُن کو پامال کرتا ہے۔جو شخص حقوق کو پامال کرتا ہے اُس کے متعلق فرمایا:۔اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ اللہ تعالیٰ اعتدا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وہ ان سے پیار اور محبت نہیں کرتا۔اعتدا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا انسان کو حاصل نہیں ہوتی اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: "وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا “ دین حق کے نزول کے بعد ، حقوق کی تعیین کے بعد ، حقوق کی وضاحت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے بعد کہ حقوق کی ادائیگی کے لئے مادی اور غیر مادی سامان پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی تقسیم ان اصول پر ہونی چاہیے جن کے نتیجہ میں اس دنیا میں اصلاح کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور فساد کے حالات مٹ جاتے ہیں، امن کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور خوف کے حالات دور کر دیئے جاتے ہیں۔ان حالات کے پیدا ہونے کے بعد لا تُفْسِدُوا في الْأَرْضِ کی رُو سے اس زمین میں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک نیا روپ لے کر دنیا کے سامنے آئی ہے۔اس میں فساد کے حالات پیدا نہ کرو۔پھر تاکیداً فرمایا کہ وَادْعُودُ کہ خدا تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کر کے اس کی برکتوں اور رحمتوں کو حاصل کرو اور اس کی نصرت اور مدد پاؤ تا کہ تم خوفا اس خوف سے نجات پاؤ جو حق تلفی کے بعد پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے وطمعا اور اس رَجَاء اور امید کے ساتھ دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تمہیں حقوق کی ادائیگی کے دائرہ میں رکھ کر خدا تعالیٰ کے پیار کو پانے والا بنادے۔فرمایا اگر تم محسن بنو۔اگر تم ہمارے احکام کو تمام بیان کردہ شرائط کے ساتھ بجالا ؤ تو یا درکھو کہ تم خدا تعالیٰ کی رحمت کو اپنے قریب پاؤ گے۔پس آج کا میرا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اعتدا کو پسند نہیں کرتا انسان اعتدا کے بعد (جس کے معنے میں ابھی بتاتا ہوں) خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی زندگی میں کامیاب ہوسکتا ہے۔عربی کے لفظ عدو (ع-د-و) کے مختلف معانی ہیں اور قریباً سارے معانی کا عکس اور اُن