خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 786
خطبات ناصر جلد پنجم ZAY خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء کی جھلک اعتداء میں آجاتی ہے۔اعْتَدَوا کے معنے ہیں حق سے تجاوز کرنا۔گولغت میں یہ لفظ تین طرح بیان ہوا ہے لیکن میں اس وقت صرف دو کولوں گا۔حد سے تجاوز کرنے کے ایک معنے یہ ہوتے ہیں کہ حق تو نہیں ہوتا۔مگر اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔حق سے تجاوز کرنے کے ایک معنی یہ ہیں کہ دوسرے کا حق ہوتا ہے مگر اسے دینے سے انکار کیا جاتا ہے گویا اپنے لئے یا غیر کے لئے۔اپنے دوست کے لئے یا اپنے عزیز کے لئے۔اپنے ہم خیال کے لئے ، اپنے ہم عقیدہ کے لئے اُن حقوق کا مطالبہ کرنا جنہیں اللہ تعالیٰ نے قائم نہیں کیا یہ حق سے تجاوز کرنا ہے۔دوسری طرف اُن حقوق کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات اور اُس کے عزیزوں کے لئے قائم کیا۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمسایوں کے لئے قائم کیا۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہم عقیدہ لوگوں کے لئے قائم کیا۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کے لئے قائم کیا گویا وہ حقوق جو خدا کے قائم کردہ ہیں ، اُن کو ادا نہ کرنا اور ان کی ادائیگی میں روک بننا، یہ بھی حد سے تجاوز کرنا ہے اور اس وجہ سے جب دوسرے کی حق تلفی کے معنی میں یہ تجاوز ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں ظلم اور دشمنی کے ساتھ اور بغض سے دوسرے کو ایذا پہنچانا۔یعنی دشمنی اور بغض کی وجہ سے کسی کو دکھ دینے کی خواہش رکھنا اور دکھ پہنچانے کے لئے کوشش کرنا اعتدا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص حق سے تجاوز کرے گا اور حق تلفی کرے گا اور دشمنی اور بغض کے نتیجہ میں دُکھ پہنچانے کی کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ اُس سے پیار نہیں کرے گا اور یہ ایک بڑاز بر دست اعلان ہے جو ان آیات میں کیا گیا ہے۔ان آیات سے جو مطلب ہم اخذ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کے ساتھ جب تک ہم اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کو مدد کے لئے نہ پکاریں اُس وقت تک ہم اُن حدود میں جو خدا تعالیٰ نے قائم کی ہیں، رہ نہیں سکتے یعنی اپنی حدود میں رہنے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔آج کی اندھی دنیا دعاؤں پر زور دینے کی بجائے اپنی عقل پر فخر کرتی ہے۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ اللہ کے قائم کردہ دائرہ حدود میں رہنے کے لئے تمہیں عقل کی ضرورت تھی اور وہ تمہیں ہم نے عطا کر دی۔قرآن کریم نے فرمایا کہ حقوق کی ادائیگی کے لئے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کے حصول کے لئے اعمال تم بجالاتے ہو اس میں تم کامیاب تبھی