خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 778
خطبات ناصر جلد پنجم 227 خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء معاشرہ میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو تمہیں بہر حال آزاد کرنا پڑے گا یہ پرانے غلاموں کی بات تھی اور آئندہ کے لئے ایسے احکام دے دیئے کہ غلامی کو مٹادیا۔یہ درست ہے کہ عملاً بعض علاقوں میں نا سمجھی سے بعض مسلمانوں نے غلامی کو جاری رکھا مگر قرآن کریم میں اس قسم کی غلامی کا کوئی جواز ہمیں نہیں ملتا لیکن جس وقت قرآن کریم نازل ہورہا تھا اُس وقت جو غلام تھے اُن میں سے ایسے غلام جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے تھے قرآنِ کریم نے اُن کے لئے ایسے اصول وضع کر دیئے کہ وہ آزادی حاصل کر سکیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں لیکن اس کے با وجود کچھ ایسے غلام بھی تھے کہ اگر ان کو کہا بھی جاتا کہ آزاد ہو جاؤ تو وہ کہتے تھے نہیں ہم آزاد ہو کر کیا کریں گے۔ایسے غلام جہاں بھی پائے جاتے اُن کے لئے قرآنِ کریم کی ہدایت کی روشنی میں انسانی شرف کو قائم کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کے لئے بھی اپنے گھر جیسا اقتصادی ماحول پیدا کرو۔جیسا خود کھاتے ہو اُسے بھی کھلاؤ۔جیسا خود پہنتے ہوا سے بھی پہناؤ۔ہر گھر کا اپنا ایک معیار ہے کوئی دوسور و پیہ ماہانہ کمانے والا ہے کوئی دس ہزار روپیہ ماہانہ کمانے والا ہے۔کوئی اپنے گھر پر میں ہزار روپیہ ماہانہ خرچ کرتا ہے اگر اُن حالات میں کہ پرانے غلام موجود ہیں اور اُن کی آزادی کا کوئی سامان نہیں دو سو روپیہ کمانے والے کو کہا جو تیرے گھر کا ماحول ہے وہی اُسے دو۔جس طرح تم اپنے بچے کو کھلاتے ہو اور پہناتے ہو اسی طرح غلام کو بھی کھلاؤ اور پہناؤ اور بعض خاندان ہیں ہزار یا تیس ہزار روپیہ بھی خرچ کر جاتے ہیں اُن کو کہا اس کے مطابق غلام کو بھی رکھو۔پس ہر انسان کو خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق وہ ملنا چاہیے جو اس کا حق ہے لیکن جو حقوق انسان بناتا ہے اُس میں تو وہ چالا کی کر جاتا ہے۔اپنے لئے کچھ بنا لیتا ہے اور غیر کے لئے کچھ بنالیتا ہے اُس کے لئے اُس نے حیلہ سازی پہلے ہی کی ہوتی ہے۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ کمیونزم نے اعلان کیا اس کے الفاظ بظاہر ایسے ہیں جو بڑے پیارے لگتے ہیں وو "To each according to his needs' یعنی ہر ایک کو اُس کی ضروریات کے مطابق دیا جائے گا اور جب اُن کے سارے لٹریچر اور کتب میں Needs یعنی ضروریات کی تعریف نہیں کی گئی اور جب عمل کرنے کا وقت آیا تو کمیونسٹ