خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 777
خطبات ناصر جلد پنجم LLL خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء نہیں کیونکہ دنیا میں ہمیں یہ نظر آتا ہے۔انسان نے اپنی پیدائش سے اس وقت تک یہی دیکھا کہ انسان کے جوانسان کے ساتھ تعلقات ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ایک وہ ہے جو خدا کو چھوڑ کر انسان ان تعلقات کو نباہتا ہے۔اپنے بھائی کے لئے ، اپنے عزیزوں کے لئے ، اپنے دوستوں کے لئے ہر قسم کے ناجائز حربے استعمال کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ایک یہ تعلق دو انسانوں کے درمیان انسان کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے لیکن ایک وہ تعلق ہے کہ جب انسان کہتا ہے کہ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں سوائے اُس تعلق کے جو میرے رب نے قائم کیا ہے۔یہ بھی ایک تعلق ہمیں نظر آتا ہے اور دراصل انسان انسان کے درمیان قابلِ اعتبار تعلق صرف یہی ہے۔جس شخص کو یہ پتہ ہو کہ زید میری خدمت میں اس لئے نہیں لگا ہوا کہ اُس نے مجھ میں کوئی خوبی دیکھی۔اگر ایسا ہے تو پھر تو خطرہ ہے کہ جس وقت وہ خوبی نظر سے اوجھل ہو جائے اُس کی خدمت بند ہو جائے گی بلکہ میری خدمت میں وہ اِس لئے لگا ہوا ہے کہ خدا نے اسے کہا۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱)۔میرے حکم کی بنا پر میرے بندوں کے دُکھوں کو دُور کرنے کے لئے اور اُن کو سکھ پہنچانے کیسے ہر دم تیار رہتا ہے، جسے وہ دُکھ سے بچا رہا ہے اور جسے سکھ پہنچانے کی وہ کوشش کر رہا ہے اُس کو یہ یقین ہو کہ دنیا کچھ سے کچھ ہو جائے اس شخص کی خدمت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میری وجہ سے میری خدمت نہیں بلکہ ہمارے ربّ کریم کی خوشنودی کے حصول کے لئے یہ خدمت ہو رہی ہے۔پس تعلقات تو قائم رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہی ایسا ہے خدا تعالیٰ نے اِس کائنات کو سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (لقمان :۲۱) کہہ کر انسان کا خادم قرار دیا ہے یعنی جو چیز بھی کائنات میں پائی جاتی ہے وہ انسان کی خدمت کے لئے ہے اور انسان اپنے ”خادم“ سے بھی اگر اپنی نالائقیوں کے نتیجہ میں انسانیت کے درجہ سے بھی نیچے گر جائے جس طرح کسی وقت میں انسان کو دوسرے انسان غلام بنا لیتے تھے۔اسلام غلامی کے خلاف ہے لیکن کہا کہ جن کو تم نے غلطی سے احکام شریعت کے خلاف غلام بنارکھا ہے۔وہ اس معاشرہ میں آزاد ہو کر اگر لکھے بیٹھ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر وہ آزاد معاشرہ کا مفید اور فعال حصہ نہ بن سکتے ہوں تو اُن کو بیشک آزاد نہ کرو لیکن اگر وہ آزاد ہو کر