خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 765 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 765

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء دوسری جگہ مستقل طور پر اضافہ ہو جائے کیونکہ جو کمی ہے وہ بہر حال عارضی ہے اور جو مسجد جلائی گئی ہے وہ انشاء اللہ، اللہ کی توفیق سے بہر حال اُس جگہ بنے گی لیکن اس وقتی کمی کو بھی مخلص دلوں نے جو غیر ممالک میں بسنے والے ہیں۔انہوں نے محسوس کیا۔اُنہوں نے کہا یہ عارضی کمی بھی نہیں رہنے دیں گے۔وہاں مسجد کی ضرورت بھی تھی پیسہ نہیں تھا اس لئے نہیں بنی تھی۔چند آدمی وہاں کھڑے ہوئے اُنہوں نے کہا پاکستان میں ایک مسجد اور علی بیرون پاکستان میں ایک مسجد اور بنے گی تا کہ مجموعی تعداد مساجد احمدیہ کی کم نہ ہو۔یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی صداقت معلوم ہوتی ہے کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں اور جماعت کو آپ نے فرمایا ” میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو!‘ پس جماعت اور مہدی معہود ایک روحانی وجود کا نام ہے اور ہماری فطرت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔ٹھیک ہے ہم پر وہ پابندیاں ہیں جو دوسرے نہیں اٹھاتے۔مثلاً ہم پر پابندی ہے ظلم نہیں کرنا۔فساد نہیں کرنا۔غلط قسم کے انتظامات نہیں لینے۔ایک شیریں انتقام Sweet Revenge ) کا محاورہ میرے دماغ میں آیا تھا جب میں ۱۹۷۰ء میں مغربی افریقہ کا دورہ کر رہا تھا۔کتنا بڑا انتقام ہے اور کتنا حسین انتقام ہے جو رؤسائے مکہ سے جو فتح مکہ کے موقع پر بچ گئے تھے لیا گیا یعنی لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ اليوم۔میں نے مغربی افریقہ میں بسنے والے اُن دوستوں کو جن کی میرے ساتھ ملاقات ہوئی اور جن سے میں نے خطاب کیا۔میں نے ان کو یہ کہا کہ جو یوروپین ممالک اور حکومتیں یہاں آئی تھیں اور انہوں نے یہاں کا لو نیز بنالی تھیں وہ تمہاری دولتیں لوٹ کر چلے گئے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان لوگوں سے ایک (Sweet Revenge) یعنی شیر میں انتقام لینا ہے۔بہت میٹھا انتقام اور وہ یہ ہے ( یہ اُس وقت ۱۹۷۰ء میں میں نے وعدہ کیا تھا ) میں نے کہا سفید فام یا بے رنگ آئے اور تمہاری دولت لوٹ کر لے گئے۔تمہیں میں اُن ملکوں میں مبلغ کے طور پر بھیج دوں گا اور تم جا کر اُن میں روحانی خزائن تقسیم کرو گے وہ دنیا لے گئے۔تم روحانی خزائن اُن کے اندر جا کر تقسیم کرو گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور عبدالوہاب بن آدم جو ہمارے غانا کے مبلغ ہیں وہ کئی سال سے انگلستان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور