خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 762 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 762

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء پر روشنی ڈالوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ تم جو بھی خرچ کرتے ہو اسلامی تعلیم کی روشنی میں تم اس سے دو مقصود حاصل کرنا چاہتے ہو۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل ہو اور دوسرے یہ کہ تمہارا آپس میں اتحاد اور ثبات پیدا ہو۔تَثْبِيتًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ سے یہی مراد ہے۔جماعت احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں سے جو خرچ کرواتا ہے وہ خرچ بھی ان دوحصوں میں بٹا ہوا ہے جو تو حید کے قیام کے لئے خرچ کیا جاتا ہے وہ پاکستان میں بھی ہے اور بیرون پاکستان کے بہت سے ممالک میں بھی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ اگلے دس پندرہ سال میں ہر ملک میں توحید کے قیام کے لئے ہماری کوششیں تیز ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے بھولے بھٹکے بندوں کو واپس لانے کے لئے ہماری تدبیر اللہ کے فضل سے ہماری حقیر کوششوں کے نتیجہ میں کامیاب ہو۔باہر جو جماعت احمدیہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تدبیر جل رہی ہے اس میں زیادہ حصہ اُن اموال کا ہے جو تحریک جدید کے نام سے خدا کی راہ میں خرچ کئے جاتے ہیں۔ان اموال میں میرا خیال ہے کہ کوئی دسواں حصہ پاکستان کی جماعت ہائے احمد یہ دیتی ہیں اور ۹حصے بیرون پاکستان کی جماعتیں دیتی ہیں۔اللہ کے فضل سے بڑی ترقی ہو گئی ہے۔جماعت احمدیہ کی کوششوں کے نتائج اللہ تعالیٰ نے عظیم نکالے ہیں۔کجا یہ حال تھا کہ اس خرچ کا سو فیصد اس برصغیر کا تھا جب تحریک جدید شروع ہوئی ہے اُس وقت پارٹیشن نہیں ہوئی تھی تو ہندو پاک کی جماعتیں سارے ثواب خود ہی حاصل کر رہی تھیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب میں اوروں کو بھی شریک کیا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے دسواں حصہ ان اخراجات کا ، ان مالی قربانیوں کا، اِس دولت کو خدا کی راہ میں قربان کر دینے کا پاکستان سے تعلق رکھتا ہے اور ۱۰/ ۹ بیرون پاکستان سے تعلق رکھتا ہے اس لئے نہیں کہ ہم یہاں کے رہنے والے پیچھے ہٹ گئے بلکہ اس لئے کہ بیرون پاکستان کی جماعتوں کی تعداد میں ایک وسعت پیدا ہوئی اور ان کے ایثار اور قربانیوں اور اخلاص میں بھی ایک مضبوطی اور روشنی پیدا ہوئی، پس یہ جو تھوڑا سا ہمارا حصہ ہے اس کی طرف تو ہمیں توجہ دینی چاہیے۔