خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 763
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء پاکستانی جماعتوں کا صرف ۱۰ / ۱ اس کوشش میں حصہ ہے اور ۱۰ / ۹ بیرونِ پاکستان سے اکٹھا ہوتا ہے اور چونکہ پاکستان بہر حال دنیا کی آبادی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جوں جوں بیرون پاکستان جماعتہائے احمد یہ عددی اور مالی ہر لحاظ سے ترقی کرتی چلی جائیں گی ہمارا حصہ دنیا میں نسبتا کم ہوتا چلا جائے گا۔یہ ایک حقیقت ہے جو ایک لحاظ سے ہمیں نظر آ رہی ہے اور جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے جس کے بغیر دنیا میں کوئی چارہ نہیں یعنی ساری دنیا کی آبادی نے سمٹ کر پاکستان میں تو نہیں آ جانا اور ساری دنیا کی آبادی کے لئے مقدر ہے کہ وہ مہدی معہود کے اُن فیوض کے نتیجہ میں جو مہدی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کر کے دنیا میں تقسیم کرنے کے سامان پیدا کئے ساری دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونا ہے تو بجوں جوں اُن کی تعداد بڑھتی جارہی ہے توں توں جماعت احمد یہ میں پاکستانی احمدیوں کی نسبت کم ہوتی چلی جارہی ہے۔اگر ہر سال دنیا کی آبادی کا دو فیصد احمدی ہوتو بیرون پاکستان دنیا کی آبادی کا دو فیصد بہت بڑی تعداد ہے پاکستان کی آبادی کے دو فی صد کے مقابلہ میں۔یہ ایک حقیقت ہے یہ تو انشاء اللہ اس کے فضل اور اُس کی رحمت سے ہونی ہی ہے۔لیکن میں جب سوچتا ہوں تو مجھے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے کیا ہم محض اس لئے کہ ہماری نسبت تعداد کے لحاظ سے بیرونِ پاکستان کے مقابلہ میں تھوڑی ہو رہی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے کیا ہماری قربانیوں کی نسبت بھی کم ہو جائے گی ؟ اس سے طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے ایک ہی صورت ہے کہ ہم اپنی قربانیاں زیادہ تیز کریں یہ مقابلہ ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيِّرات (البقرۃ: ۱۴۹) خیرات میں آگے بڑھنے کے لئے ہماری کوشش ہونی چاہیے۔بہر حال یہ تو آئندہ کی فکر ہے اور وہ ہمیں کرنی چاہیے کیونکہ ایک مومن ماضی سے سبق حاصل کرتا اور حال میں ان اسباق کے بہتر نتائج پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مستقبل میں زندہ رہتا ہے۔یہ ماضی حال اور مستقبل کی جہتوں کے لحاظ سے ایک مومن کی حیات کا نقشہ ہے۔دو ایک سال پہلے میں نے ایک معیار تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا جماعت کے سامنے پیش کیا تھا لیکن اس میں کچھ تاخیر ہو گئی اور پچھلے سال میں نے وہی معیار جب جماعت کے سامنے