خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 761 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 761

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۶۱ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء حرکت ہے۔توحید کے قیام کے لئے جو کوششیں ہو رہی ہیں اس سلسلہ میں میں اُس بہت لمبے مضمون کی طرف آج کے خطبہ میں اشارہ کر دیتا ہوں۔یہ بد خیال اور وسوسہ آج کے زمانہ میں انسانی ذہن میں شیطان نے ڈالا ہے کہ اسلام صرف انفرادی عبادات پر توجہ دیتا ہے اور جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں ان کو نظر انداز کرتا ہے حالانکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دُور ہے۔کچھ احکامات اسلامی اجتماعی زندگی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو احکام، جو اوامر انفرادی عبادت کے رنگ میں ہیں ان میں بھی اجتماعی زندگی کو استوار کرنے کے لئے بہت زبر دست سبق ہمیں ملتے ہیں، اچھے، سمجھدار، پڑھے لکھے آدمیوں سے میں نے سنا ہے کہ اسلام بس انفرادی عبادات پر زور دیتا ہے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے بالکل اعراض کرتا ہے اسی وجہ سے دنیا میں فساد ہو جاتے ہیں اور ایک نے تو مجھے کہا کہ پچھلے دنوں جماعت کے خلاف جو ہوا وہ بھی اسی کا نتیجہ تھا کہ لوگ اسلام کی تعلیم کے مطابق انفرادی عبادات کی طرف توجہ کرتے تھے اور اجتماعی ذمہ داریاں، جو انسان کے انسان پر حقوق ہیں ان کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔بات یوں نہیں ہے۔بات یہ ہے کہ اسلام نے جہاں ہر فردِ واحد کے لئے روحانی ترقیات کے سامان پیدا کئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی راہیں متعین کیں اور ان کی راہنمائی کی وہاں اللہ تعالیٰ نے اس قدر حسین معاشرہ نوع انسانی میں پیدا کیا کہ میں نے اپنی خلافت کے زمانہ میں جو یورپ اور افریقہ کے تین سفر کئے ہیں وہاں میں نے پریس کا نفرنسز کیں اور اُن میں اسلامی معاشرہ اور کمیونزم اور بڑے بڑے تمدنی ممالک امریکہ وغیرہ یا سوشلزم کا موازنہ اور مقابلہ کیا تو سوائے اس کے کہ وہ خاموشی کے ساتھ اسلام کی برتری کو تسلیم کریں ان کے لئے اور کوئی چارہ میں نے نہیں دیکھا لیکن وہ تو ایک لمبا مضمون ہے میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ ایک جگہ بہت سے غیر مسلم تھے تو آٹھ دس نکات نکال کر میں نے اُن کے سامنے رکھے کہ دیکھو تم اسلام کے منکر ہومگر پھر بھی تمہاری مخالفت کے باوجود اور بہتوں میں تم میں سے بغض اور عناد بڑا سخت ہے اس کے با وجود تمہارے جذبات کا بھی خیال رکھا اور تمہارے دنیوی مفاد کا بھی خیال رکھا اور انشاء اللہ، اللہ نے جب بھی توفیق دی (اس کی طرف بھی ایسی باتیں سن کر میری توجہ پھری ہے ) اس مضمون