خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 760 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 760

خطبات ناصر جلد پنجم 24۔خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۷۴ء راہ میں خرچ کیا۔اس اصطلاح اور محاورہ کی حقیقت ہمارے ذہن نشین رہنی چاہیے۔ہم کہنے کو تو خدا کے حضور پیش کرتے ہیں مگر چونکہ وہ غنی ہے اور اُس کو کوئی احتیاج نہیں اور وہ خالق اور خود ہی مالک ہے اِس لئے اُس کے حضور پیش کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اُس کی رضا ہمیں حاصل ہو اور یہ کہ الہی سلسلہ میں ایک مضبوطی پیدا ہوا اور نوع انسانی میں ایک حسین اتحاد قائم ہو جائے۔ان کو ہم دو حصوں میں اس وجہ سے تقسیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اللہ کی راہ میں جو اخراجات ہوتے ہیں وہ دو قسموں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔اس معنی میں کہ ایک قسم کا خرچ ایک خاص چیز پر زور دے رہا ہے اور دوسری قسم کا خرچ ایک دوسری چیز پرزور دے رہا ہے۔یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جائے۔اس میں زیادہ تر زور روحانیت پر ہے اور یہ وہ خرچ ہے جو انسان خدا کے حضور پیش کر کے اُس کے بندوں پر اس غرض کے لئے خرچ کرتا ہے کہ اُس کے جو بندے توحید پر قائم ہو چکے ہیں وہ توحید پر قائم رہیں یعنی تربیت کے اخراجات ہیں اور اس کے جو بندے تو حید پر قائم نہیں اور اللہ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کریں۔اسے ہم اصلاح وارشاد کا خرچ کہہ سکتے ہیں۔بہر حال جو خرچ تربیت پر ہے یا اصلاح نفوس انسانی کے لئے ہے اس معنی میں کہ وہ انسان جو دُوری اور بعد میں زندگی گزار رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب اور پیارا نہیں حاصل نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر کے اُس کا قرب اور اُس کا پیار حاصل کریں۔اس کو ایک یہ ہم اس طرح بیان کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضات کے حصول کے لئے یہ خرچ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جو خرچ ہوتے ہیں اُن کا ایک حصہ ایسا ہے جس کے نتیجہ میں الہی سلسلہ میں اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے اور وہ اُن کوششوں کے نتیجہ میں بُنْيَان مرصوص بن جاتے ہیں اور ایک حصہ اس خرچ کا ایسا ہوتا ہے کہ جو نوع انسانی میں اختلافات کو دُور کرنے کے لئے اور اتحاد کے قیام کے لئے ہوتا ہے۔آخر کار یہ حرکت بھی پہلے حصہ کی طرف ہی ہوتی ہے اور جب انسان اُمتِ واحدہ بن جائے گا اور اسلام تمام ائم پر غالب آ کر نوع انسانی کی ایک اُمت مسلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔پس یہ بھی اسی جہت کی طرف