خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 756 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 756

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۶ خطبه جمعه ۱٫۲۵ کتوبر ۱۹۷۴ء اندازہ نہیں لگا سکتا۔آخر انسان ہے کیا چیز۔ایک ذرہ نا چیز ،مگر خدا تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ جب تو میرے پیار میں مست ہو کر مجھے پکارے گا تو میں تیرے ساتھ پیارکروں گا اور تیری پکار کا جواب دوں گا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اُمت محمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے یہ کہا کہ دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ جس طرح ہم الحمد للہ کہتے ہیں یا جس طرح سبحان اللہ کہتے ہیں، اسی طرح ہم دعا کرتے ہیں۔یہ عبادت ہے اور بس۔اس کا قبولیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔لیکن اگر میہ اسی طرح عبادت ہے جس طرح تسبیح و تحمید عبادت ہے تو پھر تو انسان اور غیر انسان میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا۔یہی تو ایک بنیادی فرق ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسی بہت سی قوتیں عطا کیں ( جن میں ایک بنیادی قوت دعا کرنے کی قوت ہے) انسان کے علاوہ دوسری مخلوق ان قوتوں سے محروم ہے۔وہ نہ دُعائیں کرتی ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر جھکتی ہے یعنی رضا کارانہ طور پر اختیار رکھتے ہوئے مگر انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے ہر دو اختیار دیئے ہیں دعا کرنے کا بھی اور دعا نہ کرنے کا بھی۔نمازیں پڑھنے کا بھی اور نمازیں نہ پڑھنے کا بھی۔اعمالِ صالحہ بجالانے کا بھی اور اعمال سیئہ کا مرتکب ہونے کا بھی۔مگر انسان جب ان دونوں اختیارات میں سے صراط مستقیم کو اختیار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے حصول میں بڑی کوشش کرتا ہے اور سخت تکلیف اٹھاتا ہے اور انتہائی جہدو جہد کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے پیار کی آواز اس کے کان میں پڑتی ہے اور خدا تعالیٰ کی برکات اور اُس کی رحمتیں اُسے حاصل ہوتی ہیں تب وہ ایک ایسا ممتاز اور صاحب فرقان انسان بن جاتا ہے کہ دنیا اُسے دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے لیکن ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے دعا کی قبولیت سے انکار کیا مثلاً سر سید بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے گوانہوں نے تعلیمی ( دنیوی تعلیم پھیلانے میں ) میدان میں مسلمانوں کی بڑی خدمت کی ہے لیکن روحانی میدان میں انہوں نے یہ کہہ دیا کہ دعا کوئی چیز نہیں ہے۔ان کے نزدیک گویا دعا تو اسی طرح ہے جس طرح الحمد للہ کہہ دیا یا سبحان اللہ پڑھ دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ دعا اسی طرح ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی ہر دوسری مخلوق تسبیح وتحمید کر رہی ہے۔لیکن قرآن کریم تو یہ کہہ رہا ہے۔قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ کہ اگر انسان کو دعا کرنے کی قوت نہ دی جاتی اور دعا