خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 754
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۴ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء ور نہ ہر سانپ ڈس رہا ہوتا یعنی اگر اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ سانپ کو پیدا کرتا کہ وہ انسان کو ڈس لے یا اُسے کاٹ کھائے تو ہر سانپ خدا تعالیٰ کا حکم مان کر انسان کو ڈس رہا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو بعض دفعہ انسان کا اس طرح کہنا مانتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے۔سندھ کے علاقے شروع شروع میں آباد ہونے لگے تھے پنجاب کے کئی لوگوں نے جا کر سندھ کی بڑی خدمت کی ہے چنانچہ انہی دنوں و نجواں (گاؤں) کے ایک دوست جو صحابی تھے ، ان کے کچھ غیر احمدی رشتہ دار بھی وہاں چلے گئے تھے۔انہوں نے وہاں سے لکھا کہ اس علاقے میں سانپ بہت ہیں بعد میں جب انجمن نے وہاں زمینیں لیں۔تحریک نے زمینیں لیں۔حضرت صاحب نے زمینیں لیں اور بھی بہت سے احمدیوں نے وہاں زمینیں لیں تب بھی شروع شروع میں وہاں سانپ بہت تھے مگر آہستہ آہستہ آبادی کے ساتھ کم ہوتے چلے گئے لیکن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات کر رہا ہوں اور ونجواں“ کے ایک بزرگ کا واقعہ بتا رہا ہوں کہ اُن کے غیر احمدی رشتے دار جو سندھ میں جا کر آباد ہو گئے تھے اُن کے آپس میں جھگڑے پیدا ہو گئے اور اُن کو چونکہ خدا تعالیٰ نے سمجھ اور عقل اور دیانت عطا فرمائی تھی اس لئے غیر احمدی بھی انہی سے فیصلے کروایا کرواتے تھے چنانچہ انہوں نے لکھا کہ اس اس طرح ہمارے درمیان فساد جھگڑے پیدا ہو گئے ہیں تم آ کر ہمارے جھگڑے دُور کر وا ؤ مگر چونکہ ان کو خبر میں آ رہی تھیں کہ وہاں بہت سانپ ہوتے ہیں اور یہ سانپوں سے بہت ڈرتے تھے اس لئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔کہنے لگے حضور اگر مجھے کوئی کہہ دے سانپ ! تو میں تو ڈر کے مارے چھلانگ لگا کر چار پائی پر چڑھ جاتا ہوں۔سانپ کو دیکھنا تو در کنار سانپ ا کے متعلق آواز سُن کر ڈر جاتا ہوں۔آپ نے فرمایا تم سندھ چلے جاؤ۔تمہیں سانپ سے ڈر نہیں لگے گا بلکہ سانپ تم سے ڈریں گے۔وہ چونکہ بڑے مضبوط ایمان والے صحابی تھے۔وہ حضور کے ارشاد پر سندھ چلے گئے۔تربیت یافتہ ذہن تھا۔میرا بھی ان سے واسطہ پڑا ہے۔وہ بتا یا کرتے تھے کہ میں اتنا نڈر ہو گیا تھا کہ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ میں نے سانپ دیکھا۔میں اپنے رستہ پر چل