خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 739
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۹ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ وحشی کو انسان، انسان کو با اخلاق اور پھر با خدا انسان بناتی ہے خطبه جمعه فرموده ۱۸ ۱۷ کتوبر ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن عظیم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر جو ہدایت اور شریعت نازل کی وہ ایک عظیم شریعت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآنِ کریم کی شریعت اور ہدایت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور روحانی تاثیریں ایک وحشی کو انسان بنانے کی طاقت رکھتی ہیں اور انسان کو با اخلاق بنانے کی طاقت رکھتی ہیں اور بااخلاق انسان کو با خدا انسان بنانے کی طاقت رکھتی ہیں۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو ایک بڑا ہی عجیب اور بڑا ہی حسین نظارہ دنیا نے عرب کے ملک میں دیکھا۔عرب میں بسنے والے ایک وحشی قوم کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے۔اُن میں سے بہت سے اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔عیش و عشرت کی زندگی تھی۔اپنی راتیں شراب کے نشہ میں اور عیش میں گزار نے والی قوم تھی۔معاف کرنا اُن کو آتا ہی نہیں تھا۔ظلم بے انتہا کرتے تھے۔غلام بناتے تھے اور غلاموں پر بے اندازہ مظالم ڈھاتے تھے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو۔۔۔قرآنِ کریم کی شریعت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور آپ کی رُوحانی تأثیر اور قوت قدسیہ نے