خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 726 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 726

خطبات ناصر جلد پنجم ہی نہیں سکتا تھا۔خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء پس جب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہے تو وہ لوگ جو خود کو آپ کے غلاموں کے بھی غلام سمجھتے ہیں ان کا مقام تو نہایت عاجزی کا مقام ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اور آپ کے مقابلہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کا مقام احقر الغلمان کا ہے اور ہماری نسبت سے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کا مقام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم تر روحانی فرزند کا ہے یعنی ایک ایسا سالار جس کے زمانہ میں حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ساری دنیا میں اسلام نے غالب آنا ہے۔ہمارے مقابلہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کا بڑا اونچا مقام ہے لیکن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت مہدی علیہ السلام نے خود اپنے مقام کی تعیین اَحْقَرُ الْغِلْمَان کی کی ہے اور میں سمجھتا ہوں اور اس یقین اور معرفت پر قائم ہوں کہ کہ اگر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کا عاجزانہ رشتہ قائم نہ کر سکتے جو انہوں نے قائم کیا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظلّ اور کامل انعکاس نہ بن سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل انعکاس بننا یا آپ کی پوری تصویر پورے خدوخال کے ساتھ نمایاں طور پر اپنی زندگی میں ظاہر کرنا کامل عاجزی کو چاہتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اپنے نفس کا ایک دھبہ بھی اس کے اوپر نہ پڑے۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتا اور کامل طور پر عاجزانہ راہوں کو اختیار نہیں کرتا، اور کچھ دیتا ہے اور کچھ اپنے پاس رکھ لیتا ہے اس کا شیشہ ایسا ہی ہے جیسا کہ برسات کے موسم میں بعض خراب شیشوں کے پیچھے جب نمی چڑھتی ہے تو اس میں دھبے آجاتے ہیں لیکن جب حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے اپنا سب کچھ مٹا دیا اور کامل طور پر فنافی الرسول کا مقام حاصل کیا تو اس وقت آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل اور کامل انعکاس بنے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کا مقام اَحْقَرُ الْغِلْمَانِ یعنی کامل عاجزی کا مقام تھا اور جو ہمارے ساتھ آپ کا رشتہ ہے ، وہ ہم سمجھتے ہیں کہ عقلاً بھی حکماً بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب روحانی فرزند کی حیثیت سے ہے۔حکم سے میری مراد