خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 725
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۲۵ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء اس کا اسے جواب مل جاتا ہے ورنہ پھر تو ہماری دعا کا نتیجہ ایک بت کے سامنے دعا کرنے کے مترادف ہے۔نہ بت بولے نہ خدا بولے (نعوذ باللہ ) مگر قرآنِ کریم نے کہا کہ تم ان ہستیوں کی باتیں کرتے ہو جو تمہیں جواب تک نہیں دے سکتیں اور جو تمہاری دعا ئیں نہیں سن سکتیں اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ صرف خدا تعالیٰ ہی ہے جو انسان کی دعاؤں کو سنتا اور جواب دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ میری آیات کا انکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ہماری لائی ہوئی ہدایت یعنی قرآن عظیم جیسی ہدایت سے بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے : لا تُفتَحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ ان پر آسمان کے دروازے کھولے نہیں جاتے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآنِ کریم پر ایمان لاتے اور اس کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالتے ہیں ان کے لئے آسمانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔اس آیت سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے لیکن ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى امَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَةٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (الاعراف :۹۷) کہ اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو آسمان اور زمین کی برکات ان کے اوپر کھول دی جاتیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے ان پر کھول دیئے جاتے۔پس تکبر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور جو اس کا اُلٹ ہے، اس کی ضد ہے۔یعنی عاجزی وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو۔آپ نے فرمایا :۔ع بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں یعنی اپنے آپ کو سب سے زیادہ عاجز سمجھو، سب سے زیادہ حقیر اور ساری دنیا کے نیچے سمجھو۔اس سے تمہارا خدا تعالیٰ سے وصال اور پیار کا تعلق قائم ہو جائے گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے، ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جھکنا شروع کیا۔آپ کا سر جھکتا رہا ، جھلکتا رہا۔یہاں تک کہ سواری کی کاٹھی پر جالگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا سر اتنا جھک گیا کہ اس سے زیادہ جھک