خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 724 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 724

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۲۴ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء تسمے خرید کر دینے پڑتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں یہی کہا گیا کہ اگر تمہیں اتنی چھوٹی چیز کی بھی ضرورت پڑے تو اپنے خدا سے مانگو۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے بھی تم خدا کے حضور جھکو اور دعا کرو کہ اے خدا! ہمیں فلاں چیز کی ضرورت ہے۔اپنے فضل سے وہ ہمیں عطا فرما۔میں نے بتایا ہے کہ جو شریعت آنی تھی وہ تو کامل اور مکمل شکل میں آگئی لیکن بعد میں قیامت تک کی آنے والی نسلوں کی پیاس تو نہیں بجھتی۔ہر انسان کہتا ہے کہ میرا پیارا خدا مجھ سے کلام کرے تو اس کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا کلام دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک شریعت و ہدایت کا حامل ہوتا ہے اور وہ آگیا ہے ( اور کامل و مکمل ہو گیا ہے ) وہ اب نہیں آئے گا اور ایک خدا کا کلام صرف بشارتوں پر مشتمل ہوتا ہے اور وہ قیامت تک آتارہے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایسا ہی ) فرمایا ہے۔اس لئے محبت کا یہ حصہ تو دونوں طرف ہے ایک یہ کہ وہ پیار کرے اور بات کرے۔خشیت اللہ محبت کی بنیاد بنتی ہے اور محبت تقاضا کرتی ہے اپنے محبوب سے باتیں سنے کا۔ہمیں جو اسلامی شریعت ملی ہے اس میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام بند ہو گیا ہے بلکہ قرآنِ کریم ایسے ارشادات اور آیات سے بھرا ہوا ہے کہ خدا اپنے پیارے بندوں سے باتیں کرتا ہے۔یہ انسانی فطرت ہے جس کا یہ تقاضا ہے کہ بندہ اپنے خدا سے دعا کرے اور وہ اپنے بندہ سے ہم کلام ہو۔فطرت کا یہ تقاضا ویسے ہی ہے جیسے ایک ماں اپنے دو تین ماہ کے بچے کو کندھے سے لگائے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ظاہر ہے دو تین ماہ کا بچہ تو ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا تا ہم اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ماں پاگل ہوگئی ہے اس لئے وہ چھوٹے بچے کے ساتھ باتیں کرتی ہے، ماں کو پتہ ہوتا ہے کہ بچہ باتیں نہیں سمجھتا لیکن ماں کو پتہ ہے کہ اس کے دل میں بچے کے لئے محبت ہے اور وہ محبت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بچے سے باتیں کرے۔اسی طرح خدا کے بندے خدا سے باتیں کرتے ہیں اور اس کی باتیں سنتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور ان کا جواب دیتا ہوں۔اب دعاؤں کا سننا کوئی ایسا فلسفہ تو نہیں جس کے لئے کوئی دلیل نہیں یا جس کا کوئی ثبوت نہیں۔پس خدا تعالیٰ اپنے بندہ کی دعا سنتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب انسان دعا کرتا ہے تو