خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 693
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹۳ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء پائی جاتی ہے۔یہ صفت پائی جاتی ہے اور یہ صفت پائی جاتی ہے کبھی نام لے کر اور کبھی کام کا ذکر کر کے۔قرآنِ کریم نے شروع سے لے کر آخر تک ہمیں یہ بتایا ہے کہ قرآن کریم جب اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو کس معنے میں لیتا ہے مثلاً سورۃ فاتحہ کو لیں تو اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی چار بنیادی صفات ہمارے سامنے رکھی گئی ہیں۔سورۃ فاتحہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تمام تعریفوں کا مرجع اللہ ہے۔فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو رب العلمین ہے۔اللہ وہ ہے جو رحمن ہے، اللہ وہ ہے جو رحیم ہے، اللہ وہ ہے جو مالک یوم الدین ہے۔قرآنِ کریم نے اور پھر ان مطہر بزرگوں نے جن کا ذکر خود قرآن کریم نے ان الفاظ میں کیا ہے۔اِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ - فِي كِتَبِ مَكْنُونٍ - لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۷۸ تا ۸۰) گویا خود قرآنِ کریم نے ایک گروہ کو مطہرین کا گروہ قرار دیا ہے۔پس ایک تو خود قرآن عظیم نے الہی صفات بیان کیں دوسرے مطہرین کے گروہ نے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے دنیا کے سامنے الہی صفات کو بیان کیا۔ان کی تفصیل بتائی۔ان پر روشنی ڈالی اور پھر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ کہا گیا تھا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات کے نتیجہ میں آپ کے عشق میں فانی ہو کر خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کیا۔اللہ تعالیٰ کی ذات کو جس رنگ میں قرآنِ کریم نے بیان کیا ہے اور جس طرح حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہی صفات کی تشریح کی ہے ہم اسی معنے میں اللہ کو مانتے ہیں مثلاً ہم سبحان اللہ پر یقین رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اندر کوئی نقص نہیں ، کوئی کمزوری اور کوئی عیب پایا ہی نہیں جاسکتا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ نہیں کہ کوئی نا سمجھ کھڑے ہو کر یہ کہہ دے کہ مثلاً نعوذ باللہ خدا چوری کر سکتا ہے مگر ہمارا سبحان اللہ کہنا اس کی تردید کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات میں کوئی عیب یا نقص متصور ہی نہیں ہو سکتا۔میں اس اللہ کی بات کر رہا ہوں جس کو اسلام نے پیش کیا ہے۔بعض مذاہب بگڑ گئے انہوں نے ایک (انسانی) وجود کو خداوند بھی کہا اور اسے پھانسی پر بھی لٹکا دیا۔یہ مذہب کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں مثلاً ایک وجود کو لوگوں نے خدا وند بھی کہا اور یہ بھی تصور کر لیا کہ وہ خدا ہونے کے باوجو درحم مادر کی تنگ کو ٹھری میں نو مہینے تک قید بھی رہا۔یہ تو بگڑے ہوئے مذہب کی حالتیں ہیں مگر ہمارا اسلام تو بگڑا ہوا نہ ہب نہیں