خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 692
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹۲ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء No Comment کوئی تبصرہ نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر تبصرے سے قبل بڑے غور اور تدبر کی ضرورت ہے اور مشورے کی ضرورت ہے۔پس مشورے اور تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد پھر میں جماعت احمدیہ کو بتاؤں گا کہ جو پاس ہوا ہے وہ اپنے اندر کتنے پہلو لئے ہوئے تھا۔کیا بات صحیح ہے اور کیا بات صحیح نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔بہر حال اس وقت اس پر کوئی تبصرہ نہیں ہے۔اس کے لئے آپ کچھ دن اور انتظار کر لیں۔کوئی جلدی بھی نہیں ہے۔اصل تو یہ ہے کہ آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے۔اس لئے حقیقت کو اُبھر نے دیں۔حقیقت کو ان فولڈ (Uufold) ہونے دیں۔اس کو پتیاں نکالنے دیں پھر اس کے اوپر تبصرہ بھی آ جائے گا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا رد عمل کیا ہونا چاہیے یا جماعت احمدیہ کا کیا رد عمل ہے؟ کیونکہ ہر احمدی باوجود اس بات کے کہ وہ بڑا تربیت یافتہ ہے پھر بھی مرکز کی طرف دیکھتا ہے اور بہر حال مرکز سے ہدایت طلب کرتا ہے اور یہ جاننا چاہتا ہے کہ ہمارا کیا ردعمل ہونا چاہیے؟ اس کا جواب لمبا ہے اور یہ ایک خطبہ میں ختم ہونے والا نہیں ہے۔اس کے جواب میں دو پہلو مذنظر رکھنے پڑتے ہیں۔اس بنیادی حقیقت کی بنا پر جو ہماری زندگی کی حقیقت ہے اور جس کے بغیر ایک احمدی کی زندگی ، زندگی ہی نہیں اور وہ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے اور ہم پورے وثوق کے ساتھ اور پورے عرفان کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر پورا اور کامل ایمان رکھتے ہیں۔اس اللہ پر جسے اس کی ذات کے لحاظ سے اور اس کی صفات کے لحاظ سے قرآن عظیم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ہم اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے واقعہ میں عارفانہ ایمان رکھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بے مثل اور بے مانند ہے اس یو نیورس، اس عالمین میں اس جیسا کوئی نہیں ہے ذات کے لحاظ سے اور نہ اس کا مثیل ہے صفات کے لحاظ سے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اسلام نے قرآنِ عظیم کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھی ہے۔پھر قرآن کریم نے شروع سے لے کر آخر تک ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس کے اندر یہ صفت