خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 682
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۲ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء پس محبت کا ایک پہلو تو خشیت کا ہے یعنی ہر وقت انسان لرزاں و ترساں رہے کہ کسی گناہ اور کمزوری کے نتیجہ میں کہیں ہمارا رب کریم ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور محبت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان پورے عزم کے ساتھ ان اعمال کے بجالانے کی کوشش کرتا رہے کہ جن کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار اور رضا کو تم حاصل کر سکتے ہو۔یہ دوسرا پہلو ہے ایک یہ کہ اس کی ناراضگی کہیں مول لینے والے نہ بن جائیں اور دوسرے یہ کہ اس کی رضا اور اس کی محبت کو حاصل کرنے والے ہم بنیں ورنہ یک طرفہ اور ناقص محبت جس کے نتیجہ میں محبوب کے دل میں مُحِب کی محبت پیدا نہیں ہوتی لا یعنی چیز ہے اور یہاں یہ سوال نہیں کہ جس سے انسان فطرتاً پیار کرتا ہے وہ اس سے پیار کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔یہ نہیں اس نے تو اپنے پیار کے لئے انسان کو پیدا کیا۔یہاں سوال یہ ہے کہ جو انسان سے پیار کرنا چاہتا ہے اور انسان جس کے پیار کو فطرتاً حاصل کرنے کا خواہش مند ہے کہیں وہی انسان اپنی کوتاہی یا غفلت یا گناہ یا اباء اور استکبار کے نتیجہ میں اپنے پیارے کو ناراض نہ کر لے اور اس سے دوری کے سامان نہ پیدا ہو جا ئیں اور جو محبت اس سے ملنی چاہیے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے جس کی اس نے بشارت دی ہے اس سے ہم کہیں محروم نہ ہو جا ئیں۔پس ” سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں“ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کے متعلق ہمارے دل میں خشیت کا جذبہ نہ پیدا ہو۔انسان جب خدا کا ہو جائے تو پھر دنیا کی طاقتیں اسے مرعوب نہیں کیا کرتیں اور جو شخص یہ کہے کہ میں دنیا کی طاقتوں سے مرعوب ہو گیا۔دوسرے لفظوں میں وہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ میرا خدا کے ساتھ واسطہ کوئی نہیں۔ورنہ آدم سے لے کر معرفت حاصل کرنے والوں نے خدا تعالیٰ کے پیار کے سمندر اپنے دلوں اور سینوں میں موجزن کئے اور سوائے خدا تعالیٰ کی خشیت کے اور کوئی خوف اور خشیت تھی ہی نہیں ان کے دلوں میں۔یہ جو خشیت اللہ ہے یہ غیر اللہ کے خوف کو مٹا دیتی ہے۔اللہ سے یہ ڈر کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے وہ ہر دوسرے کے خوف کو دل سے نکال دیتا ہے کیونکہ مثلاً ایک جابر با دشاہ کا یہ خوف ہوگا کہ کہیں ہم پر وہ ظلم نہ کرے اور اس لئے خدا سے منہ موڑ کر کوئی جاہل انسان اس ظالم کے ظلم سے بچنے کے لئے اس کی خوشامد کرسکتا ہے مگر ایک مومن اور خدا کا عارف بندہ