خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 681 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 681

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۱ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء ہے وہ عظیم ہستی ہے جب انسان کے دماغ میں اس کا صحیح تصور آئے تو انسان کی روح تڑپ اٹھتی ہے، محبت کا ایک سمندر اس کے اندر موجزن ہوتا ہے۔اور دوسری بات لا اله الا اللہ میں یہ ہے جو معرفت کے بعد پیدا ہوتی ہے کہ سوائے اللہ کے ہمارا محبوب کوئی نہیں۔محبت دو باتوں کا تقاضا کرتی ہے ایک تقاضا ہے محبت کا اس خوف کا پیدا ہو جانا کہ ہمارا محبوب ہم سے کہیں ناراض نہ ہو جائے اس کو اسلام کی زبان میں خشیت اللہ کہتے ہیں۔خشیت وہ خوف نہیں جو ایک خونخوار درندے کو دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے خشیت وہ جذبہ ہے جو اللہ ، اس عظیم ہستی کے جلال کو دیکھ کر اور اس کے حسن کا گرویدہ ہو کر اس کے احسان تلے پس کر اس احساس کے ساتھ کہ اتنے احسانات ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں میں اس کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتے۔یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ عظیم اور صاحب جلال و اقتدار ہستی ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں ہم اس کی محبت کو کھو بیٹھیں اور اپنی اس کوشش میں کہ ہم اس کی رضا کو حاصل کریں نا کام ہو جائیں۔یہ ہے خشیت جو اللہ تعالیٰ کی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ میری معرفت کے حصول کے بعد جب تم محبت کے میدانوں میں داخل ہو گے۔فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَونِ (البقرۃ: ۱۵۱) اس وقت یہ یا درکھنا کہ صرف میری ہی ذات وہ صاحب جلال ذات ہے کہ جس کے متعلق جذ بہ خشیت انسان کے دل میں پیدا ہونا چاہیے کسی اور ہستی میں نہ وہ جلال ہے نہ وہ عظمت نہ اس کا وہ حسن نہ اس کا وہ احسان کہ انسان کے دل میں اس کے لئے خشیت پیدا ہو۔ایک جابر اور ظالم بادشاہ کے لئے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے خشیت نہیں پیدا ہوتی یعنی دل میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کے ظلم کا نشانہ ہم نہ بن جائیں لیکن اللہ تعالی تو ظالم اور جابر نہیں وہ تو رحیم اور رحمان ہے۔ہم کچھ بھی نہیں کرتے تب بھی وہ ہمیں اپنی عطا سے نوازتا ہے وہ رحمان ہے۔اور جب ہم اس کے حضور کچھ پیش کرتے ہیں تو وہ کمال رحیمیت کی وجہ سے نہ ہمارے کسی حق کے نتیجہ میں ہمارے اعمال کو قبول کرتا اور بہتر جزا ہمیں دیتا ہے اور انسان کے دل میں یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ اس کے کسی گناہ کے نتیجہ میں اس کی کسی کمزوری کی وجہ سے وہ عظیم حسن و احسان کا مالک ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور اس کی محبت اور اس کی رضا سے ہم محروم نہ ہو جائیں۔