خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 680 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 680

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۸۰ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۷۴ء ہمیں پتہ لگتا ہے اور نوع انسانی کی زندگی کے آخر میں وہ کامل ہدایت لانے والا خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آیا تو فرمان لانے والے آج دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور فرمان کی حقیقت کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی کو گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ فرمان لانے والا اپنی اُمت کے لئے اُسوہ بنے۔پس بطور رسول کے اور بطور اسوہ کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے تا اللہ تعالیٰ جو صرف وہی مطاع ہے اس کی فرمانبرداری صحیح معنوں میں ہو سکے۔یہ اس وسیع مضمون کا خلاصہ ہے۔جب ہم ان چار باتوں کی طرف دیکھتے ہیں جو لا إِلهَ إِلَّا الله یعنی پہلے حصہ میں پائی جاتی ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ سوائے اللہ کے انسان کا کوئی مطلوب نہیں ہے۔اسی کو ہم نے طلب کرنا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ معرفت حاصل ہو۔ہم پہنچا نہیں کہ اللہ کسے کہتے ہیں؟ کس ہستی کو اسلام نے اللہ کہا ہے؟ معرفتِ باری کا پایا جانا اور اس کی تلاش کرنا یہ مطلوب کے مفہوم میں پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ عظیم میں اپنا تعارف یوں کروایا ہے اور اپنی معرفت پیدا کرنے کے لئے ہمیں یہ کہا کہ اللہ وہ ذات ہے کہ جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور جو تمام نقائص اور کمزوریوں سے منزہ ہے۔کوئی کمزوری یا نقص اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا اور ہر وہ خوبی جو ایک فطرت صحیحہ کے نزدیک ایک کامل ہستی کے اندر پائی جانی متصور ہوسکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت ہے اور معرفت کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوتی ہے۔جب تک انسان کسی کے حسن و احسان سے واقف نہ ہو، اس کا عرفان نہ رکھے اس وقت تک محبت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔مجازی محبت پیدا نہیں ہو سکتی تو جو حقیقی ہے وہ کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ پس محبت کے لئے معرفت کا پایا جانا ضروری ہے اور لا اله الا اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا مطلوب سوائے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا اس واسطے انسان کے لئے فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا عرفان رکھے۔اس کی معرفت حاصل کرے اس کو جانے پہچانے۔علم رکھے کہ وہ ہے کیا ( کن صفات کی مالک وہ ہستی ہے ) اور جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے اللہ کی عظمت، اس کا جلال، اس کی کبریائی ، اس کا حسن اور اس کا احسان آتا