خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 673 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 673

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۳ خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۷۴ء دُعائیں کریں اور بہت دُعائیں کریں۔انفرادی طور پر دُعائیں کریں غلبہ اسلام کے لئے، انفرادی طور پر دُعائیں کریں ملک کی بہبود کے لئے۔اس وقت ہمارے ملک کو بھی ہماری دُعاؤں کی بے حد ضرورت ہے۔احباب اس طرح دعائیں کریں کہ جب ان کی انفرادی دُعا ئیں اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچیں تو ساری اکٹھی ہو کر اجتماعی دعا بن جائیں اور خدا کرے کہ وہ قبول ہوں اور اس کے نتیجہ میں ہماری زندگی کا مقصد اور ہماری جماعت کی غرض پوری ہو یعنی اس زمانہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوں جو اس زمانہ کے متعلق کی گئی تھیں اور وہ لوگ جنہوں نے اسلام کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔جو اسلام کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کر رہے اور جو اپنے خدا کو نہیں پہچانتے اور جو اپنے خدا سے دُور ہو چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں اور اس کی محبت سے لا پرواہ ہو گئے ہیں۔ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی نعمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض سے حصہ عطا فرمائے گا مثلاً کمیونسٹ ممالک ہیں۔اُنہوں نے نعرہ یہ لگایا کہ وہ زمین سے خدا تعالیٰ کے نام کو اور آسمان سے خدا تعالیٰ کے وجود کو مٹادیں گے لیکن جس وجود کو آسمانوں سے مٹانے کا وہ نعرہ لگا رہے ہیں ، آسمانوں سے اُسی وجود نے ہمیں بتایا ہے کہ ریت کے ذروں کی طرح وہاں مسلمان نظر آئیں گے۔پس یہ دونوں باتیں ایکسٹریم (Extreme) پر دلالت کرتی ہیں۔ایک وہ جو اس منہ سے نکلی جس کو اس وقت دنیوی طاقت حاصل ہے اور ایک وہ جو اس منبع سے نکلی جسے حقیقی طاقت حاصل ہے اور حکم اُسی کے پورے ہوا کرتے ہیں۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے انسان نے اسی کے حکم پورے ہوتے دیکھے ہیں۔ہر مخلوق نے یہی دیکھا کہ حکم اسی کا چلتا ہے۔پس جس ہستی کا دنیا میں حکم چلتا ہے وہی کہتا ہے کہ میرے وجود کو آسمانوں سے مٹانے والے میرے وجود کی معرفت حاصل کریں گے اور تب اُن کے دل میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی پیار پیدا ہو گا اور وہ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کریں گے کہ اس پاک وجود کے ذریعہ انہوں نے اپنے ربّ کریم کو پایا جو تمام قدرتوں کا سر چشمہ اور تمام طاقتوں کا مالک ہے۔اس کی بنائی ہوئی مخلوق میں مرضی اسی کی چلتی