خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 674
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۴ خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۷۴ء ہے کسی اور کی نہیں چلتی۔اس لئے تم زمین والوں کو بولنے دو۔ہوگا وہی جو آسمانوں نے فیصلہ کیا۔ہوگا وہی جو ہمارے رب کریم نے ہمیں بتایا ہے۔کتنی زبر دست پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو رہی ہیں۔اتنی زبر دست پیشگوئیاں ہیں کہ اگر ہم نے یہ سوچا ہوتا کہ اپنی طاقت یا اپنی کوشش یا اپنی دولت یا اپنے علم یا اپنے زور کے ساتھ ان پیشگوئیوں کو پورا کرلیں گے تو لوگ ہمیں پاگل کہتے اور وہ ہمیں پاگل کہنے میں حق بجانب ہوتے لیکن ہمارے رب کریم نے جو کچھ کہا اسے سچا کر دکھایا۔ہم نے تھوڑی سی طاقت خرچ کی اور ذرہ سازور لگایا مگر اس کا نتیجہ خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اتنا زبر دست نکال دیا کہ انسانی عقل حیران ہو جاتی ہے۔ہم ہر وقت سوچتے رہتے ہیں اور دُعا ئیں کرتے رہتے ہیں مگر ہمیں تو کوئی جوڑ کوئی تعلق اپنی کوشش اور اس کا جو نتیجہ نکلا ہے اس میں نظر نہیں آتا۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یورپ کے ممالک ہیں امریکہ ہے، جزائر ہیں۔ان میں سے اکثر وہ علاقے ہیں جہاں لوگوں نے اسلامی تعلیم کا ایک دھندلا سا خاکہ بھی نہیں پایا۔مخالفین اسلام نے اُن کے کان میں جو باتیں ڈالیں وہ جھوٹ اور افتراء تھا۔یورپ میں اگر چہ نوجوان نسل عیسائیت کو چھوڑ چکی ہے لیکن اُن کے اذہان اُن افتراؤں سے پاک نہیں ہوئے جو عیسائیوں نے اسلام کے خلاف باندھے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مظہر ذات بابرکات پر تہمتیں لگائی تھیں۔یہ افتراء اور یہ ناپاک الزامات ابھی تک اُن کے دماغ میں ” رڑک رہے ہیں۔جب میں پچھلے سال مختصر سے دورے پر یورپ گیا تو دو جگہ مجھے یہ طعنہ ملا کہ آپ اسلام کی اتنی حسین تعلیم پیش کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ تو بتائیں کہ ہمارے ملک کے عوام تک آپ نے اس کے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ یہ طعنہ دینے والا عیسائی تھا یا دہر یہ یہ تو میں نے نہیں پوچھا لیکن جہاں تک اس طعنے کا تعلق ہے یہ اتنا ز بر دست طعنہ تھا کہ اس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔چنانچہ میں نے اپنے مبلغین سے مشورہ کیا۔میں نے کہا جماعت احمد یہ ایک غریب جماعت ہے جتنی طاقت ہے اس کے مطابق کام کی ابتدا کر دیتے ہیں۔میں نے مبلغین سے کہا کہ تم یہ اندازے لگاؤ کہ اگر تمہارے ملک کے ہر گھر میں ایک خط پہنچا نا ہو جس میں صرف یہ لکھا ہو کہ