خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 664
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۶۴ خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۷۴ء حاصل ہو گا تو صرف اُس صورت میں ہی تم اُس کی صفات کی پیروی کر سکتے ہو اور اُس کی عظمت اور جلال کا جلوہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ فی ذاتہ کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں رکھتا اور ریا کاری جو تمام نیکیوں کو کھا جانے والا گناہ ہے اُس سے انسان اُس عظمت کے جلوہ کے نتیجہ میں محفوظ ہو جاتا ہے اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے پر چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔دوسری بدی جو اس سعادت عظمیٰ سے انسان کو محروم رکھتی ہے اور وہ بہت بڑی بدی ہے بلکہ تمام بدیوں کی بسا اوقات وہی جڑ اور موجب بن جاتی ہے۔وہ بدی تکبر کی بدی ہے۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ میں وہ طاقت، وہ قوت وہ استعداد ہے کہ میں اپنی قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کے نتیجہ میں کچھ بن سکتا ہوں لیکن اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا تکبر کی جڑ کو کاٹنے والی ہے اس طرح پر کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا ہمیں اُن نعمتوں اور اُن احسانوں کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے ہم پر کئے۔اس کی رحمانیت کے جلوے جو بغیر استحقاق کے زی ارواح پر نازل ہوتے ہیں اُن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جب تک وہ نعمتیں ہمارے کسی عمل کے بغیر ہمیں حاصل نہ ہوتیں ہم کسی قسم کی ذاتی کوشش اور جدو جہد کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔مثلاً رحمانیت نے انسان کے لئے روشنی اور اندھیرے کا انتظام کیا ہے۔ایک نظام بنایا ہے اس دنیا میں جہاں انسان کی قوتیں اپنی جدو جہد میں مصروف ہوتی ہیں اور جہاں ہماری قوتیں تھک کر رات کے اندھیروں میں سکون کی تلاش کرتی ہیں اور کوفت کو دور کر کے وہ آرام کی حالت اپنی طاقت کو از سر نو زیادہ سے زیادہ کوشش کے لئے تیار کر دیتی ہے۔بادلوں کا برسنا، زمین کی یہ ساری قوتیں جو ہماری جسمانی غذا کا سامان پیدا کرتی ہیں اور ہماری بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف جڑی بوٹیاں پیدا کرتی ہیں۔یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے پہلے یہاں تھیں۔کوئی احمق کھڑا ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ میں نے نیکیاں کیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورج بنایا اور آسمان بنایا اور یہ پانی بنایا اور یہ زمین بنائی تم تو تھے ہی نہیں جب یہ سب کچھ بنایا گیا۔اس لئے ايَّاكَ نَستَعین کی دعا اور یہ دعائیہ فقرہ ہمیں یہ دعا سکھلانے والا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتایا ہے یہ