خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 617 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 617

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۷ خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۷۴ء اور اپنے عقائد کے مطابق وہ عبادات بجالائے اور زندگی کے دن گزارے مثلاً ایک احمدی کہے گا کہ میں نماز پڑھوں گا پانچ وقت ہاتھ باندھ کر ، ایک مالکی کہے گا کہ میں پانچ وقت نماز پڑھوں گا اور ہاتھ چھوڑ کر پڑھوں گا اور شیعہ اپنے مذہب کے مطابق کہے گا۔تو مذہب کے متعلق بھی اس کو حق ہے کہ وہ کہے کہ میرا کون سا مذہب ہے۔وہ کہے گا میرا مذ ہب اسلام ہے مگر یہ اس کا حق ہے کہ وہ آئین کے مطابق کہے کہ میں شیعہ مسلمان ہوں۔میں سنی مسلمان ہوں یا سنیوں میں سے آگے دیو بندی یا بریلوی یا اہل حدیث یا وہابی مسلمان ہوں یا کسی اور دوسرے فرقے سے میرا تعلق ہے ( کہتے ہیں فرقے تہتر ہی رہتے ہیں کچھ مٹ جاتے ہیں اور کچھ نئے پیدا ہو جاتے ہیں) تو مذہبی آزادی کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ آزادی ہے کہ وہ یہ کہے کہ میرا یہ مذہب ہے اور اس میں دنیا کی کوئی طاقت کوئی حکومت دخل نہیں دے سکتی اور اس کا قانونی اور دستوری حق ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ فیصلہ دے کہ میرا فلاں فرقے سے تعلق ہے اور اپنے اعتقاد کے مطابق میں اپنی عبادات بھی بجالاؤں گا اور اپنی زندگی بھی گزاروں گا۔پھر اس کا یہ حق ہے کہ اپنے اعتقاد کے مطابق وہ تبلیغ کرے اور قانون یہ کہتا ہے کہ اس طرح تبلیغ نہ کرو کہ فساد پیدا ہو۔قانون یہ کہے گا کہ دوسرے کی طرف جھوٹے اعتقادات منسوب نہ کرو قانون یہ کہے گا جس فرقہ سے تمہارا تعلق ہے جس مذہب سے تمہارا تعلق ہے وہ مذہب تمہیں کہتا ہے کہ تم بد زبانی نہ کرو تو بد زبانی نہ کرو۔وہ کہے گا جوش میں نہ آؤ تو تم جوش میں نہ آؤ لیکن وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ تم تبلیغ کرو ہی نہ۔کیونکہ Propagate کا مطلب ہی یہ ہے کہ اگر دلائل کسی کو گھائل کریں تو اس کو اس بات کی بھی اجازت ہو کہ وہ ان دلائل کو Profess کرنے کا اعلان کرے یعنی Propagate کا تعلق پھر Profess کے ساتھ ہو جائے گا اور شق (B) یہ ہے کہ ہر مذہب اور مذہب کے ہر فرقہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی اداروں کو قائم کرے، ان کا انتظام کرے، ان پر خرچ کرے اور جو دیگر انتظام ہیں وہ کرے۔ہمارا دستور ہماری حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ احمدی مسلمان ہیں یا نہیں؟ ہمارا دستور ایک احمدی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں اور