خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 616

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۶ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء اضافہ کا موجب ہے، یہ دستور ہمیں کیا بتا تا ہے؟ اس دستور کی ۲۰ ویں دفعہ یہ ہے:۔(a)"Every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion, and (b) Every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institution۔" (The constitution of the Islamic republic of Pakistan 1973 page 22&23) اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو ہمارا یہ دستور جو ہمارے لئے باعث فخر ہے یہ ضمانت دیتا ہے کہ جو اس کا مذہب ہو اور جس مذہب کا وہ خود اپنے لئے فیصلہ کرے وہ اس کا مذہب ہے ( بھٹو صاحب یا مفتی محمود صاحب یا مودودی صاحب نہیں بلکہ ) جس مذہب کے متعلق وہ فیصلہ کرے وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اس کا زبانی اعلان کر سکتا ہے۔یہ دستور اسے حق دیتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں تو یہ آئین جس پر پیپلز پارٹی کو بھی فخر ہے ( اور ہمیں بھی فخر ہے اس لئے کہ یہ دفعہ اس میں آگئی ہے) یہ دستور کہتا ہے کہ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے اندر میں وہابی ہوں یا اہل حدیث ہوں یا اہل قرآن ہوں یا بریلوی ہوں (وغیرہ وغیرہ تہتر فرقے ہیں) یا احمدی ہوں تو یہ ہے مذہبی آزادی۔مذہبی آزادی سے مراد آج کا انسان یہ لیتا ہے کہ ہر انسان کا اپنا کام ہے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں ہے عیسائی ہے یا نہیں ہے، یہودی ہے یا نہیں ہے، ہندو ہے یا نہیں ہے، بدھ مذہب والا ہے یا نہیں ہے یاد ہر یہ ہے یا نہیں ہے۔یہ اس نے اعلان کرنا ہے کہ میرا کس مذہب سے تعلق ہے اور دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اس کا یہ حق نہیں چھین سکتیں۔یہ اعلان کرتا ہے ہمارا آئین۔پہلے یو۔این۔او نے اعلان کیا اور اب ہمارا آئین یہ اعلان کرتا ہے کہ ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں