خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 615

خطبات ناصر جلد پنجم ܙܪ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء پاکستان کی بات کروں گا تو وہاں بیان کرونگا دہرانے کی ضرورت نہیں ) چین جیسا ملک جو د نیوی لحاظ سے ایک عظیم ملک ہے ان کا رہنما چیئر مین ماؤ جس نے اپنی ساری عمر اپنی قوم کی بہبودی کے لئے وقف کر دی اور جس کو خدا تعالیٰ نے یہ فراست عطا فرمائی کہ بعض دوسرے کمیونسٹ ممالک کی طرح اس نے یہ نہیں کہا کہ اخلاق کیا ہوتے ہیں؟ بلکہ اس نے یہ کہا کہ اخلاق ہوتے ہیں اور یہ اخلاق ہے ہیں۔میں وجہ تو نہیں جانتا لیکن جن اخلاق کا انہوں نے نام لیاوہ، وہ اخلاق تھے جو قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائے تھے کہ یہ اچھے خلق ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرہ میں بد اخلاقی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔یہاں تک کہ ایک امریکی صحافی نے جب ایک چینی کارخانہ میں یہ پوچھا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پہلو بہ پہلو کام کر رہے ہیں ان کے درمیان کوئی گندے تعلقات تو نہیں پیدا ہو جاتے ؟ تو جو چینی صحافی ساتھ تھا اس نے حیران ہوکر یہ جواب دیا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ یعنی ان کے دماغ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی۔گویا وہ دنیوی لحاظ سے اتنا با اخلاق معاشرہ ہے۔اخلاق کی بنیاد ہمارے نزدیک چونکہ مذہب پر ہے اور اس وقت چونکہ قرآنِ عظیم کی شریعت اور ہدایت ہی حقیقی اور کامل شریعت اور ہدایت ہے لہذا تمام اخلاق کی بنیاد قرآن کریم کی ہدایت پر ہے لیکن دنیا کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور چین نے اپنے معاشرہ کی بنیادا چھے اخلاق پر رکھی اور جو اخلاق اس کے ذہن میں آئے وہ وہی اخلاق تھے جن پر اسلام نے زور دیا (فرشتوں نے اس کے ذہن پر القا کیا ہو گا ) کیونکہ ہماری زندگی اور اس کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس سے باہر تو نہیں جاسکتے۔ایک خاص دائرہ میں اختیار تو دیا گیا ہے۔وہ لوگ خدا کو تو نہیں مانتے لیکن ان کا دماغ اس صداقت کو پا گیا کہ یہ نامعقول بات ہے کہ ہم کوئی قانون بنا کر کسی کو ان اعتقادات سے روک دیں گے جن کا وہ اعلان کرتا ہے۔آخر میں میں اپنے دستور کو لیتا ہوں ہمارا موجودہ دستور جو عوامی دستور ہے، جو پاکستان کا دستور ہے۔وہ دستور جس پر ہمارے وزیر اعظم صاحب کو بڑا فخر ہے، وہ دستور جو ان کے اعلان کے مطابق دنیا میں پاکستان کے بلند مقام کو قائم کرنے والا اور اس کی عزت اور احترام میں