خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 594 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 594

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۴ خطبہ جمعہ ۱۴ /جون ۱۹۷۴ء جلوے ہیں جن میں غیر انسان انسان کے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر انتہائی رفعتوں تک پہنچنے کی طاقت ، قوت اور استعداد عطا کی ہے کہ ہماری اصطلاح میں عام طور پر اس کو اس طرح بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انسان وہاں تک جا پہنچتا ہے جہاں تک کہ فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں وہ تمام قوتیں اور استعداد میں عطا کیں جو روحانی رفعتوں کے حصول کے وقت اسے فرشتوں سے بھی آگے لے جانے والی ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں آزادی بھی رکھی ہے اسے صاحب اختیار بنایا ہے یعنی اگر وہ چاہے تو ان رفعتوں کو حاصل کرے اور اگر ان رفعتوں کو حاصل کرنا نہ چاہے یا غفلت برتے تو جس طرح وہ انتہائی رفعتوں کو حاصل کر سکتا ہے اسی طرح وہ روحانی طور پر اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی تنزل تک بھی پہنچ سکتا ہے اور یہی وہ کمزوری ہے جسے ہم بشری کمزوری کہتے ہیں۔دراصل انسان کی ہر وہ طاقت جو اس کو روحانی رفعتوں تک اور ان مقامات تک لے جانے والی ہے جہاں خدا تعالیٰ کی کوئی دوسری مخلوق نہیں پہنچ سکتی۔وہ اللہ تعالیٰ کا اتنا پیار حاصل کر سکتا ہے کہ کوئی دوسری مخلوق اس قسم کے پیار کے جلوے پانہیں سکتی لیکن چونکہ انسان کو آزادی دی گئی ہے۔اس لئے اگر وہ اپنی اس طاقت کو غلط طور پر استعمال کرے تو تنزل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرتا ہے اور یہ اس کی کمزوری ہے۔پس ایک طرف اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتہائی رفعتوں تک پہنچنے کی طاقتیں اور استعدادیں دینے کے بعد اس کی فطرت کو آزاد بنایا تو دوسری طرف اپنی مخلوق سے کہا کہ دیکھو! میرے بندے جو اس آزادی کے باوجود کہ میری خاطر اگر وہ مجاہدہ نہ کرتے تو ان کے لئے کوئی مجبوری نہیں تھی لیکن انہوں نے میرے پیار میں محو ہو کر میری خاطر ہر قسم کی کوشش کی انہوں نے اپنے نفس کی تربیت کے لئے مجاہدہ کیا اپنے ماحول کو پیارا اور حسین بنانے کے لئے جدو جہد کی اور دنیا کے دلوں کو خدا تعالیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کی جدو جہد میں لگے رہے حالانکہ ان کو اختیار دیا گیا تھا۔وہ صاحب اختیار تھے اگر وہ چاہتے تو اپنی طاقتوں کو رفعتوں کے حصول میں خرچ کرنے کی بجائے غلط راہوں پر خرچ کر دیتے لیکن اس