خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 589 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 589

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۹ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء اُن کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔66 یعنی متقی کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ صرف بڑے اخلاق سے بچے۔متقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں جو اچھے اور نیک اخلاق بیان فرمائے ہیں اور جن کی تفصیل ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ میں ملتی ہے اُن اخلاق میں ترقی کرتا چلا جائے۔چنانچہ اسی تسلسل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔لوگوں سے مروت، خوش خلقی ، ہمدردی سے پیش آوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان منتقی کہلاتا ہے اور جولوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں یعنی اگر ایک ایک خلق فردا فردا کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں گے۔مثلاً ایک شخص عام طور پر سچ بولتا ہے۔لیکن دیانت سے کام نہیں لیتا تو وہ متقی نہیں بلکہ تمام انسانی قوی اس کی تمام طاقتوں اور استعدادوں کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرنا یہ تقویٰ ہے اگر کسی شخص میں کوئی ایک خاص خلق فرداً فرداً پایا جاتا ہے تو اسے متقی نہ کہیں گے۔فرمایا:۔” جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ٦٣) ہے اور اس کے بعد اُن کو کیا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کا متولی ہو جاتا ہے۔جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتے ہیں۔اُن کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔اُن کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔اُن کے پاؤں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتے ہیں اور ایک اور حدیث میں ہے کہ جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے۔میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے مقابلہ کے لئے تیار رہو۔اور ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس پر ایسے جھپٹ کر آتا ہے جیسے ایک شیرنی سے کوئی بچہ اس کا چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔پس اس آیہ کریمہ میں جو مَعَ الَّذِینَ کہا گیا ہے یہ دو صفات کا مطالبہ کرتا ہے ایک اُس