خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 540 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 540

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۰ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء پانچ ہزار سال پہلے کی گندم سے مختلف ہے یہی حال دوسری فصلوں کا ہے۔اس دنیا کی ہر مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے سے نئے جلوے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔انسان کے جسم پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان اپنی نالائقیوں اور بے احتیاطیوں کی وجہ سے اپنے جسم کو ایسا بنالیتا ہے کہ جسم کے اجزا دوائی کے اثرات کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتے۔آپ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں دوائی کا اثر معجزانہ طور پر کیسے ظاہر ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ڈاکٹر کہ رہا ہے کہ میں ۲۰ دن سے دوائیاں دے رہا ہوں اور کوئی اثر نہیں ہورہا کیونکہ دوا کے اثر کو قبول کرنے کے لئے جسم تیار نہیں ہوتا اور اس طرح گو یا دلوں میں بڑی مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب ڈاکٹر کے دل میں بھی مایوسی پیدا ہو چکی ہوتی ہے تو مریض کے جسم کے اجزا پر اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوتا ہے کہ دوائی کے اثر کو قبول کریں تو مریض کو صحت مل جاتی ہے کیونکہ دوا بھی تو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہے اس لئے جب جسم کے اجزا دوائی کے اثر کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں تو مریض اور اس کے رشتہ داروں اور ڈاکٹروں کے دل میں جو مایوسی پیدا ہوئی ہوتی ہے وہ دور ہو جاتی ہے اور بیمارا چھا ہو جاتا ہے۔پس اسلام نے ہمیں ایک تو یہ تعلیم دی کہ اس یو نیورس کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگی ہوئی ہے۔اس عالمین کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور دوسرے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے اندر جو خواص ہیں وہ تمہارے شمار میں نہیں آسکتے۔تم کسی جگہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا اور اب کچھ باقی نہیں رہا مثلاً یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ گندم کے خواص سے یا آم کے خواص سے یا گوشت کے خواص سے سب کچھ حاصل کر لیا ہے اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں اپنی صفات کے جلوؤں کے ذریعہ بے شمار خواص پیدا کر دیئے ہیں۔تیسرے میں نے یہ بتایا ہے کہ جب تک انسان کوشش کرتا رہے گا مثلاً اگلے دوکروڑ سال تک بھی ہر روز ایک نئی سے نئی چیز اور اس میں ایک نئے سے نیا خاصہ دریافت ہوتا رہے گا پس اگلے