خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 539
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳۹ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء کے نوے فیصد سے زیادہ ذہنی قومی دو سال کے اندر نشو و نما پاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسال تک اس کو بہترین غذا ملنی چاہیے تا کہ اس کے دماغ کی بہترین نشو ونما ہو اور بہترین غذا ماں کا دودھ ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم پر لوگوں نے اعتراض شروع کر دیئے پھر وہ اعتراض واپس لے لئے۔پھر خود ہی ریسرچ کی اور قرآنِ کریم نے جو پر حکمت تعلیم دی تھی اس کی تائید میں باتیں کرنی شروع کر دیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآن کریم نے ہمیں صرف یہ نہیں کہا کہ اس کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگادی گئی ہے یعنی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ہر مخلوق میں انسان کے لئے بے شمار فائدے رکھے گئے ہیں ( بے شمار کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کا شمار نہیں کر سکتے ورنہ ہر مخلوق محدود ہے ) اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسلامی تعلیم بہت لیم ہے اس پر کوئی جتنا زیادہ غور کرتا ہے اس پر اس کی عظمت اور زیادہ کھلتی چلی جاتی ہے۔دوسرے ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس عالمین کی ہر چیز کے اندر جو فائدے ہیں اُن میں وسعت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے مثلاً گندم کا دانہ اپنے اندر جو خواص آج رکھتا ہے وہ پانچ ہزار سال پہلے نہیں رکھتا تھا۔گو اس کے حق میں بہت سے دلائل دیئے جاسکتے ہیں لیکن ایک موٹی دلیل دینا بہتر ہوگا اور وہ یہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ ستاروں کی روشنی کی جو شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں وہ ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ علم اب عام ہو گیا ہے میرے خیال میں بچے بھی اسے جانتے ہیں۔پھر سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ نئے سے نئے ستاروں کی شعاعوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔بعض ایسے ستارے ہیں جو اتنے فاصلہ پر ہیں کہ ہزاروں سال پہلے پیدا ہونے کے با وجود آج پہلی بار اُن کی روشنی زمین تک پہنچی ہے۔سینکڑوں ہزاروں ستارے ایسے ہیں جن کی شعاعیں پچھلے پانچ دس سال میں زمین تک پہنچی ہیں۔ہم اُن کا حساب نہیں رکھ سکتے۔اگر ستاروں کی شعاعوں کا اثر ہماری فصلوں پر پڑتا ہے اگر ستاروں کی شعاعوں میں زیادتی ہو رہی ہے تو ظاہر ہے خواص اشیاء میں بھی زیادتی ہورہی ہے۔چنانچہ فصلوں کو لے لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ آج کی گندم