خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 505 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 505

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء کے لئے اُسی بشارت کے ماتحت کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا یہ بشارت دی کہ میں رشیا میں اپنی جماعت کے افراد کو ریت کے ذروں کی طرح دیکھتا ہوں“ یہ بڑی زبر دست بشارت ہے اور اسی عظیم بشارت کے ماتحت ہے کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا۔دُنیا کا ایک حصہ رشیا ہے اُس کے متعلق پیش گوئی کر دی کیونکہ اس کے متعلق بظاہر ایک ناممکن چیز نظر آ رہی تھی۔اسی طرح دوسرے ہمارے بھائی مسلمان اپنی ناسمجھی کی وجہ سے ہمارے خلاف ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے مکہ کو مرکز بنا لیا احمدیت کے خلاف منصوبے بنانے کا۔وہ ( مکہ اور مدینہ ) جو مرکز ہے اور بنے گا غلبہ اسلام کے منصوبوں کا۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی کہ اہلِ مکہ اور اہل حجاز فوج در فوج احمدیت میں داخل ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں یہ نظارہ دکھایا۔اصل پیشگوئی وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کہ اسلام مہدی معہود کے زمانہ میں ساری دنیا میں غالب آئے گا اور اُسی کی ذیل میں اُس کی تفاصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں بتائی گئیں اور ہمارا پختہ یقین ہونا چاہیے اس پر۔اُن کو صداقتیں سمجھ کر ہمارے دل کو تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا کے حالات جیسے بھی ہیں رہیں اور مخالفانہ طاقتیں جس قدر بھی مضبوط ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔خدا نے کہا ہے کہ یہ ہو گا اس لئے یہ ضرور ہوگا اور جب قلب سلیم کی یہ کیفیت ہو۔ایک مومن کی یہ کیفیت ہو تو مومنانہ جرأت کے ساتھ وہ تبلیغ بھی کرتا ہے اور انتہائی قربانی اور ایثار اور بشاشت کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجالا رہا ہوتا ہے اور عام طور پر جماعت احمدیہ کی اللہ کے فضل سے اُسی کی رحمت سے یہ کیفیت ہے کہ دنیا مخالفت میں لگی ہوئی ہے اور احمدی دل اس یقین پر قائم ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت غلبہ اسلام کی اس تحریک کو روک نہیں سکتی اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمت سے جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہوگا اور جماعت احمدیہ کے دل میں ایک بشاشت ہے، بشاشت اس لئے کہ کمزور جماعت ہے دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہے۔دنیا کی دولتوں سے محروم جماعت ہے دنیا کا سیاسی اقتدار اُس کے پاس بھی نہیں پھٹکا اس کے باوجود خدا نے اسے اٹھایا اور کہا میں تیرے ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں غالب کروں گا۔کتنے بڑے پیار کا اظہار ہے جو خدا نے ہم سے کیا اور اس