خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 30
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء جس وقت گندم لگانے کا موسم ختم ہو جائے اس وقت ہم یہ کہہ دیں کہ ہم نے کھاد کی صحیح تقسیم کا اعلان کر دیا ہے نتیجہ اسی کام کا نکلا کرتا ہے جس کو خدائی قانون کے مطابق وقت پر کیا جائے بے وقت کام کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔اسی لئے عمل صالح میں حال کے مطابق کام کرنے کی شرط بھی شامل ہے یعنی جو کام کرنے کا وقت ہے اس کو بھی ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے درخت لگانے کا موسم سال میں ایک دفعہ فروری مارچ میں آتا ہے اگر اس موسم کی بجائے دسمبر جنوری میں درخت لگائے جائیں تو ظاہر ہے کہ جہاں تک درخت لگانے کا سوال ہے یہ عمل صالح نہیں کہلائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ موسم درخت لگانے کا نہیں درختوں کے سُلانے کا رکھا ہے۔بعض درخت بہت گہری اور لمبی نیند لیتے ہیں مثلاً سیب کا درخت ہے یہ ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں اسے پانچ چھ مہینے کی نیند مل جائے۔اتنی لمبی نیند سے کشمیر میں ہی ملتی ہے اس لئے کشمیر کا سیب بہت مشہور ہے۔غرض جہاں بھی ایسا موسم ہوگا وہاں کا سیب بہت اچھا ہوگا۔اسی لئے اب سوات میں بھی بہت اچھے سیب ہونے لگ گئے ہیں۔سیب کی بعض قسمیں ایسی بھی ہیں جن کے درخت چودہ چودہ ہزارفٹ کی بلندی پر ہوتے ہیں اور وہ آٹھ مہینے تک نیند لیتے ہیں۔پس جس وقت درختوں کے سونے کا وقت ہوتا ہے اس وقت اگر آپ درخت لگا ئیں گے تو وہ مر جائیں گے کیونکہ اس موسم میں کوئی درخت جڑ نہیں پکڑے گا۔غرض وہی کام نتیجہ خیز ہوتا ہے جسے وقت پر کیا جائے بے وقت کا کام بتا تا ہے کہ کام کر نے والے شخص کو اپنے کام سے پیار نہیں ہے وہ تو یونہی بیگار کاٹ رہا ہے۔ہمارے اس کام کی جو پہلی سٹیج ہے یا اس کا جو پہلا قدم ہے وہ دو کنوئیں لگانے کا تو یقینا ہے۔اگر کسی اور محلے میں تیسرے کنوئیں کے لگانے کا پروگرام بھی شامل ہو اور وہ محلہ اپنے آپ کو حق دار بنالے تو اس کو بھی حصہ مل جائے گا لیکن اگر وہ فی الواقعہ حق دار نہ ہو تو اس کو حصہ نہیں ملے گا۔۲۰۔۲۵ فروری سے پہلے پہلے یہ کنوئیں بہر حال چالو ہو جانے چاہئیں۔اسی طرح اگر درخت فروری میں لگانے ہیں تو ابھی سے ان کے لئے گڑھے کھود لینے چاہئیں۔مجھے یہ رپورٹ ملی ہے کہ محلے اس طرف توجہ نہیں کر رہے۔تمام محلوں کو چاہیے کہ وہ ابھی سے گڑھے کھودنے کا کام شروع کر دیں گڑھے کھود کر